"فاتح قادیان" یا گستاخ اکھیں — Page 85
۸۵ ساتھ بے پناہ عشق تھا۔قرآن میں فکر و تدیر آپ کا مشغلہ تھا۔آپ فرماتے ہیں۔دل میں یہی ہے ہر دم تیرا صحیفہ چوموں قرآن کے گرد گھوموں کعبہ مرا یہی ہے - آپ کے والد محترم آپ کو مطالعہ کم کرنے کی نصیحت فرماتے تا صحت میں فرق نہ آئے اور دنیاوی کاروبار یا کسی نوکری کی تحریک کرتے تو آپ جواب دیتے کہ ” میں خدا کا نوکر ہو گیا ہوں" والد صاحب کے بار بار اصرار پر قرآن کریم کے حکم کے تحت محض اطاعت کی غرض سے سیالکوٹ میں سرکاری ملازمت اختیار کی۔جسے پھر جلد ہی چھوڑ دیا۔اس عرصہ ملازمت میں بھی اصل مشغله عبادت و ریاضت ، مطالعہ دینی کتب اور تدبر قرآن ہی رہا۔چنانچہ مولوی سراج الدین صاحب والد مولوی ظفر علی خان صاحب ایڈیٹر اخبار ” زمیندار " آپ کی اس زندگی کے متعلق اپنی چشم دید شہادت یوں تحریر فرماتے ہیں۔" مرزا غلام احمد صاحب ۱۸۶۰ء ۱۸۶۱۴ء کے قریب ضلع سیالکوٹ میں محرر تھے۔اس وقت آپ کی عمر ۲۲ ۲۳ سال کی ہوگی اور ہم چشم دید شہادت سے کہتے ہیں کہ جوانی میں نہایت صالح اور متقی بزرگ تھے۔" زمیندار - ۸ جون ۶۹۰۸) آپ کے والد محترم آپ کے تقویٰ اور تعلق باللہ کو دیکھ کر فرمایا کرتے تھے کہ :- جو حال پاکیزہ غلام احمد کا ہے وہ ہمارا کہاں ، یہ شخص زمینی نہیں آسمانی ہے۔یہ آدمی نہیں فرشتہ ہے۔(تذکرة المهدی جلد ۲ صفحه ۳۳) آپ کی پہلی شادی پندرہ سال کی عمر میں اور دوسری شادی تقریباً پچاس سال کی عمر میں ہوئی مگر کسی شادی سے آپ کی زاویہ نشینی کثرت مطالعہ اور انقطاع الی اللہ میں فرق نہ آیا۔یہ وہ زمانہ تھا جب کہ انگریزی دور حکومت پورے عروج پر تھا اور عیسائی مشنری پوری قوت سے تبلیغ عیسائیت میں مشغول تھے۔جگہ جگہ بائبل سوسائٹیاں قائم کی گئیں اور اسلام اور بانی اسلام کے خلاف صدہا کتابیں شائع کی گئیں اور کروڑہا کی تعداد میں مفت پمفلٹ تقسیم کئے گئے۔ان کی رفتار ترقی کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ ۱۸۵۷ء میں عیسائیوں کی تعداد ہندوستان میں