"فاتح قادیان" یا گستاخ اکھیں

by Other Authors

Page 79 of 99

"فاتح قادیان" یا گستاخ اکھیں — Page 79

29 - ہے کہ مہدی معہود کے زمانہ میں رمضان کے مہینے میں چاند کو اس کی پہلی رات میں گرہن لگے گا (یعنی تیرھویں تاریخ میں کیونکہ چاند کے گرہن کے لئے خدائی قانون قدرت میں تیرھویں اور چودھویں اور پندرھویں تواریخ مقرر ہیں جیسا کہ اہل علم سے پوشیدہ نہیں ) اور سورج کو اس کے درمیانی دن میں گرہن لگے گا۔(یعنی اسی رمضان کے مہینہ کی اٹھا ئیں تاریخ کو۔کیونکہ سورج کے گرہن کے لئے قانون قدرت میں ستائیس اٹھائیس اور انتیس تواریخ مقرر ہیں۔" اب تمام دنیا جانتی ہے کہ ۱۳۱ھ مطابق ۱۸۹۴ء میں یہ نشانی نہایت صفائی کے ساتھ پوری ہو چکی ہے۔یعنی 8 ھ کے رمضان میں چاند کو اس کی راتوں میں سے پہلی رات میں یعنی تیرھویں تاریخ کو گرہن لگا۔اور اسی مہینہ میں سورج کو اس کے دنوں میں سے درمیانی دن میں یعنی اٹھا ئیں تاریخ کو گرہن لگا۔اور یہ نشان دو مرتبہ ظاہر ہوا۔اول اس نصف کرہ زمین میں اور پھر امریکہ میں۔اور دونوں مرتبہ اپنی تاریخوں میں ہوا۔جن کی طرف حدیث اشارہ کرتی ہے۔اور یہ نشانی صرف حدیث ہی نے نہیں بتائی بلکہ قرآن شریف نے بھی اس کی طرف اشارہ کیا ہے۔جیسا کہ فرمایا - و خسف القمر و جمع الشمس والقمر (سورۃ القیامہ رکوع ہیں یعنی " چاند کو گرہن لگے گا۔اور اس گرہن میں سورج بھی چاند کے ساتھ شامل ہو گا۔" یعنی اسے بھی اسی مہینہ میں گرہن لگے گا۔اب دیکھئے ! کس صفائی کے ساتھ یہ علامت پوری ہو کر ہمیں بتا رہی ہے کہ یہی وہ وقت ہے جس میں مہدی کا ظہور ہونا چاہئے۔کیونکہ جو اس کے ظہور کی علامت تھی وہ پوری ہو چکی ہے۔بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ یہ حدیث مرفوع نہیں بلکہ حضرت امام محمد باقر تک پہنچ کر رک جاتی ہے۔دوسرے یہ کہ اس میں چاند گرہن رمضان کی اول رات میں اور سورج گرہن رمضان کے وسط میں بیان کیا گیا ہے حالانکہ عملاً چاند کا گرہن تیر ھوئیں میں اور سورج کا اٹھا ئیسویں میں ہوا تھا ؟ ان اعتراضات کا جواب یہ ہے کہ بے شک یہ حدیث ظاہراً موقوف ہے لیکن محدثین کی اصطلاح کے مطابق یہ روایت حکماً مرفوع ہی ہے۔پھر یہ بھی تو دیکھو کہ راوی کون ہے ، کیا وہ اہل بیت نبوتی کا درخشندہ گوہر نہیں ؟ اور یہ بات بھی سب لوگ جانتے ہیں کہ ائمہ اہل بیت کا یہ طریق تھا کہ بوجہ اپنی