"فاتح قادیان" یا گستاخ اکھیں — Page 69
۶۹ - ہو یا نہیں۔پھر جب وہ شادی کرے گا تو لوگ کہیں گے کہ ابھی بھی نہیں۔دو ہزار سالہ بوڑھے کے ہاں اولاد ہونا نا ممکن ہے اس لئے ہم پہلے یہ دیکھیں گے کہ آپ کے ہاں اولاد بھی ہوتی ہے یا نہیں۔چنانچہ وہ اس کے ہاں ولادت کا انتظار کریں گے۔پھر جب اس کے ہاں اولاد ہو گی تو وہ کہے گا کہ مجھے پر ایمان لاؤ۔تو بجائے اس پر ایمان لانے کے ہر مسلمان اپنا فرض سمجھے گا کہ اس پر ایمان نہ لائے بلکہ یہ جواب دے کہ حدیث کے الفاظ کے ظاہری معنی کے مطابق آپ کا زمین پر ۴۵ سال رہنا ضروری ہے اس لئے ہم آپ پر ایمان نہیں لائیں گے بلکہ پینتالیس سال انتظار کریں گے اور اگر اس مدت معینہ میں ایک دن کی بھی کمی یا بیشی ہوئی تو وہ اس بات کی دلیل ہو گی کہ آپ بچے مسیح نہیں ہو۔اور آپ کا آسمان سے اترنا ، شادی کرنا اور پھر آپ کے ہاں اولاد کا ہونا بے معنی ہو گا اور آپ کو سچا ثابت کرنے کے لئے کافی نہیں ہو گا۔یہ پینتالیس سال کا عرصہ طے کرتے ہوئے اکثر لوگ تو خود بے ایمانی کی حالت میں اس جہان فانی سے کوچ کر چکے ہوں گے اور جو باقی ہونگے وہ یہ دیکھیں گے کہ آیا وہ معین طور پر پینتالیس سال اس زمین پر رہتا ہے یا نہیں۔چنانچہ اگر وہ بغیر ایک لمحہ کی کمی و بیشی کے ۴۵ سال پورے کر کے اس دار فانی سے رخصت ہو گیا تو اول یہ کہ ایسا بے بس اور مظلوم نبی اور مأمور من اللہ ساری تاریخ انبیاء میں کوئی نظر نہیں آئے گا کہ جس پر تا وفات کوئی ایمان لانے والا نہ ہو بلکہ جو ایمان لانے کے خواہشمند بھی ہوں ان پر بھی پابندی ہو کہ پورے ۴۵ سال اس کی موت کا انتظار کریں۔دوسرے یہ کہ جب ایسا فرضی مسیح اپنے پینتالیس سال پورے کر کے بے یارومددگار اور یک و تنہا اس دنیا سے رخصت ہو گا تو لوگ اس وفات یافتہ پر بھی ایمان نہیں لائیں گے بلکہ یہ انتظار کریں گے کہ آیا اس کی میت مدینہ بھیجوائی بھی جاتی ہے یا نہیں۔چنانچہ اگر اس کی میت مدینہ بھیجوا دی بڑھاتے ہیں اسے جسمانی طور پر کمزور کرتے چلے جاتے ہیں۔چنانچہ جس شخص پر بڑھاپا آتا ہے اور اس کی عمر جوں جوں بڑھتی چلی جاتی ہے اس کے اعضاء اور اعصاب کمزور تر ہوتے چلے جاتے ہیں اور وہ ضعیف تر ہوتا چلا جاتا ہے تو پھر وہ فرضی مسیح جو فرضی آسمانوں پر دو ہزار سال سے براجمان ہے وہ اس آیت کریمہ میں بیان شدہ قانون الہی سے کیونکر باہر رہ سکتا ہے۔سو سالہ بوڑھے کی جو جسمانی حالت ہوتی ہے وہ کسی سے مخفی نہیں تو اندازہ لگائیں کہ دو ہزار سالہ بابے کی جسمانی اور ذہنی کیفیت کیا ہو گی۔پس حضرت مسیح علیہ السلام کی آسمان پر زندگی والا قصہ ہی لغو ہے جو قرآن کریم اور احادیث نبویہ اور قانون قدرت کے سراسر خلاف ہے جیسا کہ ہم گذشتہ صفحات میں ثابت کر آئے ہیں۔منہ