"فاتح قادیان" یا گستاخ اکھیں — Page 68
YA (۹) مسیح و مہدی کے ظہور کی علامات چشتی صاحب نے " مسیح موعود کی پہچان " کے عنوان کے تحت مشکوۃ کی ایک حدیث نامکمل درج کی ہے اور حوالہ بھی غلط تحریر کیا ہے اور اس حدیث کے ظاہری الفاظ کے مطابق یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر اس حدیث میں بیان شدہ علامات صادق نہیں آتیں۔ہم اصل حدیث مکمل الفاظ میں صحیح حوالہ کے ساتھ ہدیہ قارئین کرتے ہیں۔مشکوۃ شریف باب نزول عیسیٰ علیہ السلام کی الفصل الثالث میں لکھا ہے :- عن عبد الله بن عمرو قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم بنزل عیسی بن مریم الى الارض فيتزوج ويولد له و يمكث خمسا واربعين سنة ثم يموت فيد فن معى في قبری فاقوم انا و عيسى بن مريم في قبر واحد بین ابی بکر و عمر - حضرت عبد اللہ بن عمرو سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عیسی بن مریم زمین پر نازل ہو گا اور وہ شادی کرے گا اور اس کی اولاد ہو گی۔وہ زمین پر ۴۵ سال رہے گا پھر وہ وفات پائے گا اور میری قبر میں میرے ساتھ دفن ہو گا۔پھر میں اور عیسی بن مریم ایک ہی قبر میں سے ابو بکر اور عمر کے درمیان میں سے اٹھیں گے۔معزز قارئین! اگر چشتی صاحب کی طرح اس پر معارف حدیث نبوی کے ظاہری الفاظ پر تکیہ کرلیا جائے اور اس کے نہاں در نہاں معارف سے صرفِ نظر کیا جائے تو تصویر کچھ اس طرح بنتی ہے کہ جب وہ فرضی مسیح جو چشتی صاحب کے گمان میں دو ہزار سال سے آسمان پر بیٹھا ہوا ہے جب زمین پر اترے گا تو لوگ اس کے دعوی کو تو سنیں گے مگر بجائے اس پر ایمان لانے کے کہیں گے ابھی نہیں۔صرف آسمان سے زمین پر اترنا کافی نہیں بلکہ ہم یہ دیکھیں گے کہ آپ شادی ہو بھی کرتے اول تو یہ مضحکہ خیز بات ہے کہ ایک پیر فرتوت جس کی عمر دو ہزار برس ہو گی وہ آسمان سے اترنے گا اور اس وجہ سے رشتہ ڈھونڈنے نکلے گا کہ تا اس کی صداقت کا ثبوت مہیا ہو سکے۔دو سرے یہ کہ قرآن کریم میں اللہ تعالی جھافی فرماتا ہے کہ و من نعمر ، ننکس فی الخلق کہ جسے ہم عمر میں بقیه انگلے صفویه