"فاتح قادیان" یا گستاخ اکھیں

by Other Authors

Page 58 of 99

"فاتح قادیان" یا گستاخ اکھیں — Page 58

۵۸ اور جاہل کو عالم بنایا جا سکتا ہے رات کو دن اور دن کو رات کہا جا سکتا ہے غرضیکہ جہان معانی میں وہ طوفان بے تمیزی برپا ہو اور ایسا اندھیر آئے کہ ہاتھ کو ہاتھ بھائی نہ دے ! صحابہ کی گواہی اگر ابھی بھی کسی صاحب کی پوری طرح تسلی نہ ہوئی ہو۔تو ان کی تسلی کی خاطر صحابہ رضوان اللہ علیم کی بھی ایک ناقابلِ رو گواہی پیش کی جاتی ہے جس کے بعد اس امر میں ایک ذرہ بھر بھی شک نہیں رہتا کہ صحابہ رضوان اللہ علیم کے نزدیک بھی آیت " وما محمد الارسول قد خلت من قبله الرسل کا مطلب یہی تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے قبل جتنے رسول تھے سب فوت ہو چکے اور کوئی بھی زندہ آسمان پر موجود نہیں۔کتب تاریخ اور معتبر احادیث میں یہ واقعہ درج ہے جسے امام بخاری نے بھی نقل فرمایا ہے کہ جب حضرت رسول اکرم صلے اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا۔تو صحابہ غم کے مارے دیوانوں کی طرح ہو گئے یہاں تک کہ بعض کو یقین نہ آتا تھا کہ ان کا محبوب آقا ان سے ہمیشہ کے لئے جدا ہو گیا ہے۔اس شدید غم کی کیفیت سے متاثر ہو کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بھی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فوت شدہ ماننے سے انکار کر دیا۔اور تلوار ہاتھ میں لے کر کھڑے ہو گئے کہ جو شخص بھی یہ کہے گا کہ رسول اللہ صلی علیہ وسلم فوت ہو گئے میں تلوار سے اس کی گردن اڑا دوں گا۔آپ ہر گز فوت نہیں ہوئے۔بلکہ جس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام چالیس دن کیلئے اپنی قوم سے الگ ہو کر خدا تعالٰی سے مناجات کرنے گئے تھے اسی طرح رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی عارضی طور پر ہم سے جدا ہوئے ہیں اور واپس تشریف لے آئیں گے۔اس صورت حال میں بعض صحابہ نے حضرت ابو بکر کی طرف آدمی دوڑائے۔جب آپ تشریف لائے تو سیدنا و مولانا حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نعش مبارک کے پاس حاضر ہوئے جو سفید کپڑے میں لپٹی پڑی تھی۔اس مبارک چہرے سے کپڑا اٹھایا اور یہ دیکھ کر کہ واقعی آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم وفات پاچکے ہیں بے اختیار آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے جھک کر آپ کی پیشانی کو بوسہ دیا اور عرض کیا کہ خدا تعالٰی آپ پر دو موتیں اکٹھی نہیں کرے گا۔یعنی یہ کہ آپ مر