"فاتح قادیان" یا گستاخ اکھیں

by Other Authors

Page 37 of 99

"فاتح قادیان" یا گستاخ اکھیں — Page 37

۳۷ لَوْ نَشَاءُ لَقَلْنَا مِثْلَ هذا اب انصاف کی نظر سے دیکھنا چاہئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تو ۲۲ کتابیں فصیح و بلیغ عربی میں تصنیف فرما ئیں جبکہ عربی اشتہارات ان کے علاوہ ہیں۔لیکن پیر مہر علی شاہ صاحب اگرچہ یہی کہتے رہے لو نشاء لقلنا مثل هذا کہ اگر ہم چاہیں تو اس کی مثال پیش کر دیں مگر ایک لمبی عمر اور طویل فرصت ملنے کے باوجود بھی تفسیر قرآن پر مشتمل چند اوراق ہی عربی میں لکھنے پر قادر نہ ہو سکے۔پیر صاحب کی شروع سے لے کر آخر تک چالاکیوں اور فرار کے حیلوں اور بالآخر ان کی بے بسی اور ہزیمت کے چرچے زبان زدعام ہونے لگے۔یہی وجہ ہے کہ ان کے بعض قریبی مرید بھی سچائی کو قبول کر کے احمدیت میں داخل ہوئے۔دوسرے یہ کہ جوں جوں لوگوں نے بلکہ بہت معتبر لوگوں نے پیر صاحب سے تفسیر لکھنے کا مطالبہ کیا تو ان پر بھی پیر صاحب کا عجز ظاہر ہوتا گیا۔چنانچہ مولوی فیض احمد فیض جامعه خوشیه گولڑه شریف لکھتے ہیں۔ایک مرتبہ حضرت دیوان سید محمد پاکپتن شریف کے اصرار پر حضرت قبلہ عالم قدس سرہ نے قرآن مجید کی تفسیر لکھنے کا ارادہ فرمایا لیکن پھر یہ کہہ کر دیوان صاحب سے معذرت خواہ ہوئے کہ میرے خیال تفسیر نویسی پر میرے قلب پر معانی و مضامین کی اس قدر بارش ہو گئی ہے جسے ضبط تحریر میں لانے کے لئے ایک عمرور کار ہو گی اور کوئی اور کام نہ ہو سکے گا۔(مہر منیر صفحہ ۲۴۵) کاش پیر صاحب دوسرے کاموں کی بجائے یہی کام کر دیتے تو بڑی بات تھی مگر افسوس کہ " اس قدر بارش " ایسی زمین پر ہوئی کہ فتر کہ صلدا (پس اسے بالکل صاف کی صاف چھوڑ گئی )