"فاتح قادیان" یا گستاخ اکھیں — Page 27
۲۷ (۲) إِنَّهُ كِتَابُ لَيَسْ لَهُ جَوَابُ مولوی محمد حسن فیضی اور اس کے نوٹس حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ۲۳ فروری ۱۹۰۱ء کو کتاب ” اعجاز المسیح " شائع کر دی جو پیر صاحب کو بھی پہنچائی گئی۔اس کتاب میں پیر صاحب کے علاوہ علماء عرب و عجم کو عربی میں تفسیر نویسی کے لئے کھلی دعوت مقابلہ بھی تھی۔اس دعوت مقابلہ کو قبول کرتے ہوئے ایک مولوی محمد حسن فیضی ساکن موضع بھیں تحصیل چکوال ضلع جہلم مدرس مدرسہ نعمانیہ واقع شاہی مسجد لاہور نے عوام میں شائع کیا کہ وہ اس کا جواب لکھے گا۔چنانچہ اس نے جواب کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب اعجاز المسیح اور حضرت سید محمد احسن امرد ہوی کی کتاب "شمس بازغہ " پر نوٹ لکھنے شروع کئے۔ان نوٹوں میں ایک جگہ اس نے لعنۃ اللہ علی الکاذبین بھی لکھ دیا جس پر ابھی ایک ہفتہ بھی نہ گزرا تھا کہ خدا تعالیٰ کی تقدیر خاص کے تحت وہ ہلاک ہو گیا۔اس کی اس غیر معمولی ہلاکت نے ایک طرف تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مقابل پر اس کا اپنا جھوٹا ہونا ثابت کیا تو دوسری طرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہام منعه مانع من السماء (کہ اسے آسمان سے ایک روکنے والے نے روک دیا ) کی سچائی کا عظیم الشان نشان فراہم کیا۔" مولوی محمد حسن فیضی متوفی کا ترکہ اس کے گاؤں موضع رھیں ضلع جہلم پہنچ گیا جس میں اس کی جملہ کتب کے ساتھ کتاب اعجاز المسیح اور شمس بازغہ بھی تھیں جن پر اس نے نوٹ لکھے تھے۔اردو کی کتاب ادھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس خیال اور انتظار میں تھے کہ چونکہ اکثر با سمجھ لوگوں نے پیر صاحب کی اس کارروائی کو پسند نہیں کیا جو انہوں نے لاہور میں کی تھی (جس کی تفصیل ہم گذشتہ صفحات میں درج کر آئے ہیں ) اس لئے اس ندامت کا داغ دھونے کے لئے ضرور انہوں نے یہ ارادہ کیا ہو گا کہ مقابلہ تفسیر نویسی کے لئے کچھ طبع آزمائی کریں اور کتاب " اعجاز المسیح " کی مانند