فتاویٰ کفر اور ناجی جماعت — Page 89
جماعت کا مرکزہ بھی وہی بنے گا وہ بھی بین الاقوامی - جماعت احمدیہ کا مرکز خلافت ثانیه تک قادیان ر ہا لیکن حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفتہ المسیح الثانی رضی الله عنه کو جب تقسیم ملک کے وقت ہجرت کرنی پڑی تو پاکستان میں اول اول لاہور مرکزہ ہے پھر ربوہ۔پاکستان کی حکومت نے جب جماعت پر مختلف قسم کی پابندیاں عائد کیں تب امام جماعت احمدیہ پاکستان سے لندن تشریف لے گئے اس کے ساتھ ہی جماعت کا هرکته بریدہ سے لندن منتقل ہو گیا۔جو کہ بفضلہ تعالیٰ بین الاقوامی مرکز کہلاتا ہے دنیا کی ۱۴۸ ملکوں کی جماعتیں اس ایک مرکز کے تابع ہیں۔جماعت کی تیسری شرط جماعت کی تیسری شرط این در قوای بیت المال الاقوامی ہے جو امام وقت کے تابع ہوتا ہے یہ نشانی بھی سوائے جماعت احمدیہ کے اور کسی میں نہیں پائی جاتی۔امام جماعت احمدیہ کے تابع بفضلہ تعالٰی ایک بین الاقوامی بیت المال ہے جس میں پیسہ جمع ہونے کے بعد امام وقت کی اجازت کے بغیر خرچ نہیں ہو سکتا بالکل اُسی طرح جیسے خلافت راشدہ کے زمانہ میں تھا۔پس حدیث شریف میں آئے لفظ وهى الجماعت نے امام الزمان عالمی مرکزیت اور عالمی بیت المال کی شرائط کے ساتھ جماعت احمدیہ کو نکھار کر اور روشن کیہ کے دنیا والوں کے سامنے پیش کر دیا ہے مسلمانوں کے دیگر فرقوں میں کون سا فرقہ ہے جو جماعت کہلانے کا حقدار ہے اور جماعت کی نشانیاں اپنے اندر رکھتا ہے ؟ پس خدا کا خوف دل میں رکھنے والے کے لئے جماعت احدیہ کی صداقت کا یہ ایک نشان ہی کافی ہے۔صاف دل کو کثرت اعجاز کی حاجت نہیں ایک نشاں کافی ہے گردن میں ہو خوف کردگار پاکستان میں جماعت احمدیہ کو لے کر جو شور محشر برپا کیا گیا وہ کسی سے پوشیدہ نہیں تمام فرقے ایک طرف مجتمع ہوئے اور جماعت احمدیہ کو ایک طرف رکھا پھر بالاتفاق یہ فیصلہ دیا کہ جماعت احمدیہ مسلمان نہیں۔نہیں کوئی ناراضگی نہیں اور