فتاویٰ کفر اور ناجی جماعت — Page 88
جاہلیت کی موت سے نجات پائے حضرت مسیح موعود علیہ السلام امام الزمان فرماتے ہیں مدت ہوئی کسوف خسوف رمضان میں ہو گیا۔مجھے بھی بند ہوا اور بموجب حدیث کے طاعون بھی ملک میں پھیلی اور بہت سے نشان مجھ سے ظاہر ہوئے جس کے صدہا ہندو اور مسلمان گواہ ہیں۔جن کا میں نے ذکر کیا ان تمام وجوہ سے میں امام الزمان ہوں۔اور خدا میری تائید میں ہے اور وہ میرے لئے ایک تیتر تلوار کی طرح کھڑا ہے۔اور مجھے خبر دی گئی ہے کہ جو شرارت سے میرے مقابل پر کھڑا ہو گا۔وہ ذلیل اور شرمندہ کیا جائے گا۔دیکھو ئیں نے وہ حکم پہنچا دیا جو میرے ذمہ تھا اور یہ باتیں میں اپنی کتابوں میں کئی مرتبہ لکھ چکا ہوں۔" ( ضرورت الامام ۲۰ روحانی خزائن جلد ۱۳ حت (۴۹) حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دنیا والوں کو مطلع فرمایا ہے کہ اگر وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کے مطابق امام الزمان کی بیعت نہیں کرتے اور جماعت میں شامل نہیں ہوتے وہ جماعت مومنین سے ضرور کاٹے جائیں گے۔اور علیحدہ کئے جائیں گے۔اور ان کا نہ اس دنیا میں کوئی پرسان حال ہو گا اور نہ آخرت میں حضور ایک جگہ فرماتے ہیں : " خدا نے یہی ارادہ کیا ہے کہ جو مسلمانوں میں اسے مجھ سے علیحدہ رہے گا وہ کاٹا جائے گا۔بادشاہ ہو یا غیر بادشاہ" مجموعہ اشتہارات جلد ۲ ص ۴۱ ( (اشتہار ۲۴ رسمی ۱۸۹۷ء مطبوعہ ضیاء الاسلام قادیان) - جماعت کی دوسری شرط | جماعت کے لئے دوسری شرط یہ بیان کی جاتی ہے کہ اس کا ایک عالمی مرکز ہوتا ہے اور درد مرکزہ وہاں ہو گا جہاں وقت کا امام ہو گا۔بالکل اسی طرح جیسے آغاز اسلام میں خلافت ثالثہ تک بین الاقوامی اسلامی مرکه مدینه ر ہا لیکن جب حضرت علی رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے تو آپ نے قصر حالات مدینہ سے کوفہ منتقل کر لیا پھر کونہ بین الاقوامی اسلامی مرکز بنا۔الغرض جہاں امام ہوگا