فتاویٰ کفر اور ناجی جماعت

by Other Authors

Page 9 of 158

فتاویٰ کفر اور ناجی جماعت — Page 9

کہ حضرت مسیح موعود علیہ السّلام کے خلاف کفر کے فتوے جمع کئے اور اپنی بد باطنی کا ثبوت دیتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت پر مہر ثبت کر گئے۔اسی بات کو بیان کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام تحریر فرماتے ہیں :۔اور امید تھی کہ عقلمند لوگ ان کتابوں کو شکر گزاری کی نظر سے دیکھیں گے اور خدا تعالیٰ کی جناب میں سجدات شکر بجالا دیں گے کہ عین ضرورت کے وقت میں اس نے یہ روحانی نعمتیں عطا فرما ہیں لیکن افسوس کہ بعض علماء کی ختنہ اندازی کی وجہ سے معاملہ برعکس ہوا۔اور بجائے اس کے کہ لوگ خدا تعالٰی کا شکر کرتے ایک شور و غوغا سخت ناشکری کا ایسا بر پا کر دیا کہ وہ تمام حقائق اور لطائف اور نکات اور معارف الہیہ کلمات کفر قرار دیئے گئے اور اسی بناء پر اس عاجزہ کا نام بھی کافراور ملحد اور زندیق اور دجال رکھا گیا۔بلکہ دنیا کے تمام کافروں اور دجالوں سے بدتر قرار دیا گیا۔اس فتنہ اندازی کے اصل بانی مبانی ایک شیخ صاحب محمد حسین نام ہیں جو بٹالہ ضلع گورداسپور میں رہتے ہیں اور جیسے اس زمانہ کے اکثر علان تکفیر میں ستعمل ہیں اور قبل اس کے جو کسی قولی کی تہہ تک پہنچیں اس کے قائل کو کافر ٹھہرا دیتے ہیں یہ عادت شیخ صاحب موصوف میں اوروں کی نسبت بہت کچھ بڑھی ہوئی معلوم ہوتی ہے۔اور اب تک جو ہم پر ثابت ہوا ہے وہ یہی ہے کہ شیخ صاحب کی فطرت کو تا برادر غور اور حسن ظن کا حصہ قسّام ازل سے بہت ہی کم ملا ہے۔اسی وجہ سے پہلے سب سے استفتا کا کاغذ ہا تھ میں لے کہ ہر یک طرف یہی صاحب دوڑے۔چنانچہ سب سے پہلے کا فرادر مرند ٹھہرانے میں میاں نذیر حسین صاحب دہلوی نے قلم اٹھائی اور بٹالوی صاحب کے استفتا کو اپنی گفر کی شہادت سے مزین کیا اور میاں نذیر حسین نے جو اس عاجز کو بلا توقف و تامل کافر ٹھہرا دیا۔باوجود اس کے جو میں پہلے اس سے ان کی طرف صاف تحریر کر چکا تھا کہ میں کسی عقیدہ متفق علیہ السلام سے منحرف