فتاویٰ کفر اور ناجی جماعت

by Other Authors

Page 98 of 158

فتاویٰ کفر اور ناجی جماعت — Page 98

۹۸ فعلی لحاظ سے اُن کے ساتھ وہی سلوک ہورہا ہوگا۔جیسا میرے اور میرے صحابہ کے ساتھ معد رہا ہے۔اس لحاظ سے بھی جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ وہ کون سی جماعت ہے جو صحابہ کی طرح کام کر رہی ہے اور پھر ان کے ساتھ ویسا ہی سلوک ہو رہا ہے جیسا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کے ساتھ ہو رہا تھا۔خاک ریہاں اس بات کا بھی ایک جائزہ پیش کرتا ہے تاکہ بچے اور ناجی فرقہ کی صداقت روز روشن کی طرف ثابت ہو جائے اور کسی پر یہ راز راز نہ رہے۔بلکہ حقیقت کھلے وباللہ التوفیق۔ا۔قارئین نے اس مضمون کے شروع میں ایک مشابہت مطالعہ فرمائی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جب تک دعوی نہیں فرمایا تھا اس وقت تک تمام مشرکین مکہ آپ کو صدوق اور امین کہا کرتے تھے لیکن جیسے ہی آپ نے ان کے سامنے اپنی نبوت اور توحید کو پیش کیا تو سب کے سب آپ کے مخالف ہو گئے اور نعوذ باللہ آپکو برا بھلا کہتے ہوئے وہاں سے رخصت ہوئے بالکل اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ اس نام نے جب تک مسیح موعود اور مہدی معبود ہونے کا دعویٰ نہیں فرمایا تھا اس وقت تک آپ کی خدمت اسلام لوگوں کے لئے ایک مثال تھی اور یہ اعلان ہورہا تھا کہ تیرہ سو سال سے ایسی خدمت اسلام کسی نے نہیں کی۔اور آپ کی خدمت اسلام میں ثابت قدمی کو ایک نمونہ کے طور پر پیش کیا جارہا تھا۔لیکن جیسے ہی آپ نے دعوئی فرمایا تو آپ پر کفر کے فتوے شروع ہوئے اور یہ کہا جانے لگا کہ نعوذ باللہ تجھ جیسا جھوٹا ہم نے آج تک نہیں دیکھا۔- ۲۔۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کو ثابت کرنے کے لئے خدا تعالی نے قرآن کریم کی آیت فقد لبثت فيكم عمرا من قبله افلا تعقلون نازل فرمائی اور آپ کی سابقہ زندگی پر انگلی اٹھانے کا چیلنج پیش کیا لیکن کوئی ایک شخص بھی آپ کی دعوئی سے پہلے کی زندگی پر کوئی اعتراض نہ کر سکا۔بالکل اُسی طرح سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی جب آپکو