فتاویٰ کفر اور ناجی جماعت — Page 87
کی طرف سے قائم کردہ ہے اور یہی خلیفے امام الزمان سفتم ہزار کی نیابت میں امام الربان ہیں اسی لئے سکس را حمدیہ ایک جماعت کی صورت میں موجود ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی جماعت کے جنتی ہونے کی پیشگوئی فرمائی ہے۔امام جماعت کی بیعت کر نا پھر جماعت میں داخل ہونا کس قدر ضروری ہے اس کا اندازہ آپ اس حدیث سے کہ سکتے ہیں۔فرمایا عن ابن عمر رضی الله عَنْهُمَا قَالَ سَمِعْتُ رَسول الله صلى الله عليه وسلم يَقُول مَنْ خَلَعَ يَدٌ أَمِنْ طَاعَةٍ لَقِيَ الله يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا حُجَّةً لَهُ وَمَنْ مَاتَ وَ لَيْسَ فِي عُنقه بَيْعَةً مَاتَ مِنتَةً جَاهِلِيَّةٌ وَلَي رِوَايَةٍ مَنْ مَاتَ وَهُوَ مفارق لِلْجَمَاعَةِ فَإِنَّهُ يَمُوتُ مِيَةٌ جَاهِلتَةً " = ۲۰۸ 1-F ر مسلم کتاب الامارہ باب الامر بلزوم الجماعة عند ظهور الفتن ما یعنی حضرت ابن عمرنہ بیان کہتے ہیں کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا جس نے اللہ تعالٰی کی اطاعت سے اپنا ہا تھ کھینچا وہ اللہ تعالے سے رقیامت کے دن) اس حالت میں لے گیا کہ نہ اس کے پاس کوئی دلیل ہوگی نہ عذر اور جو شخص اس حال میں مراکہ اس نے امام وقت کی بیعت نہیں کی تھی تو وہ جاہلیت کی موت مرا۔ایک روایت ہے کہ جو شخص اس حال میں مرا کہ وہ جماعت سے علیحدہ تھا تو اس کی سوت جاہلیت کی موت ہوگی۔" بالکل وہی مضمون ہے جو قرآن بیان کرتا ہے اور جس کی طرف حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث جو پہلے لکھی گئی ہیں اشارہ کرتی ہیں۔جماعت سے علیحدگی یہ بھی جہالت کی موت ہے اور امام الزمان کی بیعت کئے بنا مرا یہ بھی جہالت کی موت میں داخل ہے پس قرآن و احادیث کے احکامات کی روشنی میں یہ ضروری ہے کہ ہر شخص اپنے آپ کو امام الرمان کے تابع کر کے اور اس کی بیعت کر کے جماعت میں شامل ہوتا وہ