فتاویٰ کفر اور ناجی جماعت

by Other Authors

Page 81 of 158

فتاویٰ کفر اور ناجی جماعت — Page 81

> بندھی ہوئی ہے جسے خدا مقر رکھتا ہے اور تاحیات اسی مقام پر فائز رہتا ہے جیسا کہ انبیا علیہم السّلام اپنے زمانے کے امام کہلائے بعد میں خلفاء کی صورت میں اور پھر مجددین کی صورت میں وہ امامت امت مسلم میں قائم ودائم رہی اور امت مسلمہ ان کو وقت کا امام تسلیم کرتی چلی آئی۔قرآن کریم نے بھی انبیاء علیہم السلام کا ذکر فرمایا اور کہا کہ : وَجَعَلَهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا (الانبیاء آیت (۳) یعنی اور ہم نے ان کو امام بنایا وہ ہمارے حکم سے انکو ہدایت دیتے تھے اس سے صاف ظاہر ہے کہ امام وہ ہو گا جو خدا کی طرف سے مقرر ہو اور اس امام کی تا بعداری میں لوگ جماعت میں شامل ہوں گے اس امام کے پیچھے کھڑے ہونے والے ہی جماعت کہلائیں گے۔امام الزمان کی پہچان ضروری ہے۔ان حضور میلہ علیہ سلم کی آنحضرت ایک حدیث ہے۔آپ فرماتے ہیں :۔وعن معادية قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من مات بغير امام مات ميتة الجاهلية"۔(مندام جلا) حضرت معاویہ سے روایت ہے کہ رسول اللہصل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو غیر نام کے گیا دہ جاہلیت کی موت مرا۔اسی طرح ایک روایت اسطرح کی ہے کہ :- واخرجه احمد والترمذي وابن خزيمة وابن حبان وصححه من حديث الحارث الاشعري بلفظ من مات وليس عليه امام جماعة فان مونته موتة جاهلية - یعنی حارث اشعری کی حدیث میں یہ الفاظ ہیں کہ جو شخص اس حال میں مرا کہ اس کی جماعت کا کوئی امام نہ ہو تو یقیناً اس کی موت جاہلیت کی موت ہوگی اسی طرح شیعہ کتاب میں ایک حدیث ان الفاظ کی درج ہے کہ :