فتاویٰ کفر اور ناجی جماعت — Page 75
کے ساتھ ساتھ اقرار بالعمل بھی کرتے ہیں اور بار بار کلمہ پڑھ کر مسلمان ہونے کا اعلان کرتے ہیں لیکن حیرت ہے کہ انہیں پھر بھی مسلمان تسلیم نہیں کیا جاتا زیادہ ہی زور دیں تو جواب یہ ہوتا ہے کہ دل سے نہیں پڑھتے۔اس کا جواب تو خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی دیا تھا جب اسامہ نے ایک شخص کو گرایا اور اس نے کلمہ پڑھا لیکن پھر بھی یہ سمجھ کر کہ ڈر کر پڑھ رہا ہے دل سے نہیں اُسے قتل کر دیا تھا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔أَفَلَا تَقْتَ عَنْ قَلْبِ حَتَّى تَعْلَمَ أَنَا لَهَا ام لا ؟ بخاری تا با تعاری کہ تو کیوں نہ تو نے اس کا دل چیر کر دیکھا کہ اس نے دل سے کہا ہے یا نہیں۔اس لئے اس بات پر فتویٰ دینے والا سوائے خدا کے اور کوئی نہیں کہ کلمہ پڑھنے والا دل سے پڑھتا ہے یا نہیں بہر حال جو کلمہ پڑھے وہ لاز ما مسلمان ہے بلکہ جیسا کہ آپ پڑھ چکے کہ خدا اس شخص کو بھی اپنے آپ کو مسلمان کہنے کی اجازت دیتا ہے جس کے دل میں ایمان داخل نہ ہوا ہو۔کاف سے مسلمان ہونا کیسے ؟ : آج کے زمانہ میں جب کفر کے فتوے دے کر کسی کو اسلام سے خارج کر دیا جاتا ہے تو پھر دوبارہ اس کو اسلام میں داخل کرنے کا طریق کیا ہے یہی تو ہے کہ وہ پھر سے کلمہ پڑھے بس وہ مسلمان ہو گیا۔ہمارے اشد ترین علماء کے ساتھ بھی نجب یہی سلوک ہوا جودہ ہمارے ساتھ کرتے ہیں تو انہوں نے دوبارہ اپنے آپ کو مسلمان بنانے اور ثابت کرنے کے لئے کیا گیا ؟ ملاحظہ فرمائیں لیکن اگر ہم بنی عمل جو انہوں نے دہرا یا دہرائیں تو بھی ہم مسلمان نہیں ہوسکتے یہ کیسی منطق ہے بس اس کو ملا کی محفل ہی جائے۔سیرة تنالے میں لکھا ہے :- " ایک بار آریوں سے مناظرہ تھا۔آریہ مناظر کو جب پتہ چلا کہ تم متقابل ثناء اللہ ہے تو اس کے چھکے چھوٹ گئے۔مگر وہ بہت ہوشیار تھا اور چاہتا تھا کہ کسی طرح مولینا ثناء اللہ کی نہ د سے نیچے جائے۔اور ان کی