فتاویٰ کفر اور ناجی جماعت — Page 71
ایک شخص مسلمان کہلانے کا مستحق ہے اگر وہ ۱۔توحید ۲۔نبوت ۳۔قیامت پر ایمان رکھتا ہو۔یہ تین بنیادی عقائد ہیں جن پر ایمان لانا مسلمان کے لئے ضروری ہے ان تین بنیادی ارکان پر شیعوں اور سنیوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ان تین عقائد پر ایمان کے علاوہ مسلمان ہونے کے لئے دیگر چیزوں پر جسے ضرورت دین کہتے ہیں ایمان لانا ضروری ہے۔مجھے اُن کے بیان کرنے اور شمار کر نے میں دو دن درکا ہوں گئے لیکن مثال کے طور پر میں اتنا کہوں گا کلام پاک کا احترام، وجوب نماز، وجوب روزه، وجوب حج شریعت اور دوسری چیزیں جو بے شمار ہیں ضرورت دین میں داخل ہیں۔مولانا عبد الحامد بدایونی کا ارشاد ہے :- ایک شخص جو ضرورت دین پر ایمان رکھتا ہے مومن کہلاتا ہے اور ہر رومین مسلمان کہلانے کا مستحق ہے۔" سوال :۔ضرورت دین کیا ہے ؟ جواب : جو شخص اسلام کے پانچ ارکان پر ایمان رکھتا ہے اور رسالت پر : ایمان یہ کھتا ہے ضرورت دین پوری کرتا ہے۔" سوال:۔کیا پانچ ارکان کے علاوہ دوسرے اعمال ایک شخص کے مسلمان ہوتے یا دائرہ اسلام سے خارج ہونے پر اثرانداز ہو سکتے ہیں ؟؟ ر مولانا کو بتایا گیا کہ اعمال سے مراد وہ اخلاقی اصول ہیں جسے دور حاضر کے معاشرہ میں صحیح تسلیم کیا جاتا ہے) جواب : " يقيناً۔" سوال :۔پھر کیا آپ ایسے شخص کو مسلمان نہیں کہیں گے جو ارکانِ خمسہ اور رسالت پر ایمان رکھتا ہے۔لیکن دہ دوسروں کی چیز چراتا ہے اس کے حوالہ کی ہوئی جائیداد غصب کرتا ہے اپنے پڑوسی کی بیوی پر بری نظر ڈالتا ہے اور اپنے محسن سے احسان فراموشی کا مرتکب ہوتا ہے۔