فتاویٰ کفر اور ناجی جماعت

by Other Authors

Page 66 of 158

فتاویٰ کفر اور ناجی جماعت — Page 66

وَسَبْعِينَ مِلَّةَ كُلُّهُمْ فِي النَّارِ الَّا مِلَّةً وَاحِدَةً قَالُوا مَنْ هِيَ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ مَا أَنَا عَلَيْهِ وامتحاني رواه الترمذي و و في رَوَايَةِ اَحْمَدُ وَالى داوَوَعَنْ مَعَاوِيَةَ بِنْتَانِ وَسَبعُونَ في النار و واحِدٌ لا فِي الجَنَّةِ وَهِيَ الْجَمَاعَةُ"۔مشکواۃ شریف عربی اردو تصنیف امام ولی الدین محمد بن عبد الله الخطیب رحمہ اللہ تعالیٰ متوفی ست و مترجم مولانا عبدالحکیم خان اختر شاہجہانپوری تصنیف شده اعتقاد پبلشنگ ہاؤس نئی دہلی طبع بار اول ضروری ۱۹ م ) ترجمہ : یعنی حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت پر بھی ایسے وقت آئیں گے جیسے بنی اسرائیل پر آئے تھے اور اس کی مثال ایسی ہے جیسے کہ ایک جوتا دوسر کے برابر ہوتا ہے۔یہاں تک کہ اگر کوئی نبی اسرائیل میں سے اپنی ماں کے پاس علانیہ طور پر گیا ہو گا تو ایسا ہی میری امت میں بھی ہوگا۔اور بے شک بنی اسرائیل میں بہتر فرقے ہوئے تھے پس میری امت تہتر فرقوں میں بٹے گی جو ما سوا ایک کے سب کے سب جہنمی ہوں گے سرکار سے دریافت کیا گیا کہ وہ فرقہ کون سا ہے سرکار نے فرمایا جس پر میں اور میرے صحابی ہیں یہ روایت ترنزی نے کی ہے لیکن احمد اور ابو داؤد کی روایت ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی روایت سے اس طرح منقول ہے۔بہتر دوزخ میں ہوں گے اور ایک جنت میں اور وہ باہ یافتہ جماعت ہوگی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی یہ حدیث قرآن کریم کی مندرجہ بالا آیت کی صاف اور واضح تفسیر پیش کرتی ہے۔قرآن کریم کی آیت میں ہے کہ فمن یکفر من الاحزاب فالنار موعدہ یعنی ان گروہوں میں سے یا فرقوں میں سے جو کوئی بھی انکار کر ے گا اس کا ٹھکانہ آگ ہوگی۔اور حدیث کے الفاظ بھی یہی نہیں کہ بہتر آگ میں جانے والے ہیں اور لازمی بات یہ ہے کہ انکار کر نے والے ہی آگ میں جائیں گے جبکہ ایمان لانے