فتاویٰ کفر اور ناجی جماعت — Page 64
۶۴ خدائے قادر و توانا کے ہاتھ کا لگایا ہے اور خدا کے درخت کو دنیا کی کوئی طاقت اکھاڑ نہیں سکتی۔الكفر ملة واحدة | مدوسری بات قرآن کریم نے یہ بیان فرمائی کہ خدا تعالٰی کا ارادہ یہ ہوتا ہے کہ خبیث کو طبیب سے الگ کر دے پھر خدا تعالیٰ خبیث کہ ایک جگہ اکٹھا کر کے ایک ڈھیر کی مانند کر دیتا ہے۔تاکہ اُس ڈھیر کو جہنم میں ڈال دے۔دراصل یہ الکفر ملة واحدة کی طرف اشارہ ہے کفر ایمان کے بالمقابل ملة واحدہ بن جاتا ہے۔آپ کسی نبی کے دور کو بھی دیکھیں نبی پر ایمان لانے والوں کے مقابل پر کفر ہمیشہ سے ملة واحد بنا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جب دعوی فرمایا اور چند لوگ آپ پر ایمان لے آئے تو آپ کے مقابل پر کفر ملت واحدہ بن گیا وہ دل جو آپس میں پھٹے ہوئے تھے وہ ایمان کے بالمقابل اکٹھے ہو گئے۔یہی خیلیت تھا جو ایک پر ایک رکھا گیا اور ایک ڈھیر کی مانند ہو گیا جس کے جہنم میں ڈالے جانے کا وعدہ ہے بشرطیکہ وہ حق کو قبول نہ کریں۔ہاں اگر حق کو قبول کر لیں گے تو خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وہ اُن کو معاف کر دے گا لیکن اگر مومنوں کے مقابلہ میں کفر کر نے والوں کی صف اب کھڑے ہوں گے تو ان سے وہی سلوک ہوگا جو اس سے پہلوں کے ساتھ ہو چکا ہے۔* خدا تعالٰے اسی بات کو ایک اور جگہ بیان فرماتا ہے کہ :- ا فَمَن كَانَ عَلى بَينَةٍ مِّنْ رَّبِّهِ وَيَتْلُوهُ شَاهِدٌ مِنْهُ وَ مِنْ قَبْلِهِ كِتَبُ مُوسَى إِمَا مَا وَ رَحْمَةٌ أولَئِكَ يُؤْمِنُونَ بِهِ وَمَنْ يَكْفُرُ به مِنَ الأَحْزار نَا النَّارُ مَوْعِدُهُ فَلَاتَكَ فِي مِرْيَةٍ مِنْهُ وَ إِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ شَريكَ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يُؤْمِنُونَ (سوره سود آیت : ۱۸) ترجمہ :۔یعنی پس کیا وہ شخص جو اپنے رب کی طرف سے ایک روشن دلیل پر