فتاویٰ کفر اور ناجی جماعت — Page 143
اردو ترجمہ ۲۳ کتاب قوائد استالین فوائد السالکین دے تو اس کی بابت آپ کی کیا رائے ہے ؟ خواجہ قطب الاسلام نے زبان مبارک ے فرمایا کہ یہ بہتر ہے کہ وہ نماز ترک کر کے اپنے پیر کی بات کا جواب دے کیونکہ یہ تلوں کی نماز سے افضل ہے اور اس میں بہت بڑا تو اب ہے۔اسی موقعہ کے مناسب آپ نے فرمایا کہ ایک مرتبہ میں نقل کی نماز میں مشنوں تھا ب شیخ معین الدین ادام اللہ پر جو تہ نے مجھے آوازوں میں نے فور نماز ترک کی اور لبیک کہا۔آپ نے فرمایا ادھر آ کر اجب میں جائز ہوا تو آپ نے پوچھا۔کہ تو کیا کر رہا ہے : میں نے عرض کیا کہ میں نفل ادا کر رہا تھا۔آپ کی آواز سن کر نماز ترک کر دی۔اور آپ کو جواب دیا۔آپ نے نڑیا بہت اچھا کام کیا ہے کیونکہ بینکوں کی نماز سے انفصل ہے ، اپنے پیر کے دینی کام میں معتقد ہونا نیست اچھا کام ہے۔اسی موقعہ کے مناسب آپ نے فرمایا کہ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ میں وہ بہت سے ہی کی تو والدین با اونی ک کی مد بار شیخ معین الدین رحمتہ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر تھے۔اور اولیاء اللہ کے ہارے ری اوقار کاکی رت خواجہ فرید الدین گنج شکر رحمة الله عليه مكتبه جام نور ۴۲۲، مٹیا محل ، جامع مسجد دہلی ۲ صنا میں ذکر ہورہا تھا۔اسی اثار میں ایک شخص باہر سے آیا۔اور بیت ہونے کی نیت۔سے خواجہ صاحب کے قدموں میں سر رکھ دیا۔آپ نے فرمایا بیٹھ جا۔وہ بیٹھ گیا۔اور اس نے عرض کی کہ میں آپ کی خدمت میں مرید ہونے کے واسطے آیا ہوں! شیخ صاحب اس وقت اپنی خاص حالت میں تھے۔آپ نے فرمایاکہ جو کچھ میں سمجھے کہتا ہوں۔وہ کہو۔اور بھالا تب مرید کروں گا۔اس نے عرض کی کہ جو آپ فرما دیں۔میں بجالانے کو تیار ہوں آپ نے فرمایا کہ تو کلمہ کس طرح پڑھتا ہے ؟ اس نے کہا۔لا اله الا الله محمدٌ رَسُولُ اللهِ - آپ نے فرمایا یوں کہو : لا اله الا اللہ چشتی رسول اللہ اس نے اسی طرح کیا۔خواجہ صاحب نے اسے بیعت کر لیا۔اور خلعت و نعمت دی را در معیت کے شرف سے مشرف کیا۔پھر اس شخص کو فرمایا کہ سن! میں نے تجھے جو کہا تھا کہ کلمہ اس طرح پڑھوکا ہے صرف تیرا عقیدہ آزمانے کی خاطر کہا تھا۔ورنہ میں کون ہوں یا میں تو ایک ادنی سا مام محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا ہوں کلمہ اصل میں وہیں ہے۔لیکن میں نے صبت حال کی کمالیت کی وجہ سے یہ کلمہ تیری زبان سے کہلوایا تھا۔چونکہ تو مرید ہونے کے الله