فتاویٰ کفر اور ناجی جماعت

by Other Authors

Page 144 of 158

فتاویٰ کفر اور ناجی جماعت — Page 144

اردو ترجمه 144 کتاب راحت همچنین ہیں رہے۔ہمیشت کا سارا کارخانہ دکھایا گیا۔آپ پر ایک محل کو دیکھ کر لو مجھتے کہ پیرکس کا ہے۔آخر جب جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل اور چاروں چیزوں کے ہمنوں کے پاس پہنچے۔تو کھڑے ہو کر کہا کہ ان محلوں سے بڑھ کر کوئی اور محل اچھا نہیں۔پر ور دگار را بی کس کے لئے ہیں ؟ فرمایا۔یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ ولی اور آپ کے چاروں یاروں کے محل ہیں۔پس اور میں علیہ السلام نے بارگاہ الہی میں مناقبات کی کہ کاش ! اور میں امت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم سے تو یہ بعد ازاں اسی موقعہ کے مناسب فرمایا کہ جب بہتر ادریس علیہ السلام کو بہشت میں ہے۔جایا گیا۔تو فرمان الہی ہوا کہ اسے اور میں باتیری عبادت یہی ہے کہ تو میدے ؟ اور ایک دم بھی میری یاد سے غافل نور ہے۔پھر مہتر اسحق علیہ السلام کے بارے میں گفتگو شروع ہوئی۔تو زبان مبارک سے فوایا کر جب آپ سارہ کے بطن سے پیدا ہوئے۔تو اسی رات یہودیوں کے بتخانوں میں سارے بت رنگوں ہو گئے۔اور وہ بت پکار اٹھے لا اله الا الله امحق نبی الله بعد ازاں جب آپ بڑے ہوئے۔اور رسالت کی چادر پہنچی۔تو ہمیشہ طاعت اور عبادت میں مشغول رہتے۔کسی وقت کبھی خون خدا سے خالی نہ رہتے ہمیشہ کے اریکا اپتے رہتے ینا ہو تے۔ملانیا میں لکھا ہے کہ جب رات ہوئی۔تو سکتے ہیں زنجیر ڈال کر بیٹھ باندھ لیتے۔اور ساری رات اسی طرح بسر کرتے۔اور ون کو تبلیغ رسالت کا کام کرتے۔چنانچہ آپ کی ساری فصل القوامة الحالة عمر اسی طرح بسر ہوئی۔آپ کو معجزہ صرف یہ ملا کہ آپ کی نسل سے تقریب پیغمبر مرسل پیدا ہوئے۔حضرت خواجہ مینی ورحمۃ اللہ علیہ اور بنی اسرائیل کے صاحب تمت بنے پھر فرمایا کہ ایک مرتبہ آپ سے مہادت کے وظیفہ میں ماغہ ہوگیا۔اس غفلت کی منداست سے سترہ سال اس طرح روتے کہ رخساروں کا گوشت و پوست مل گیا۔جب سجدہ کرتے تو بسا اوقات سال بھر یا کم وش سجدے میں رہتے۔جب آپ سے پوچھاگیا۔کہ آپ اس قدر کیوں روتے ہیں؟ تو فرمایا کہ مسلمانوں میں ڈرتا ہوں کہ قیامت کے دن مجھے میرے والد بزرگوا ستر ابراہیم خلیل اللہ کے روبرو کھڑا کر کے یہ نہ کہیں کہ میرا بیٹا یہ تھا کہ میں سے عبادت کے وظیفے میں نا فر ہوا۔اس وقت میں انبیار کو کیا منہ دکھا دوں گا۔مكتبه جام نور ا مرا به ۲۰ کوچه میلان دریا گنج قفل دہلی ۲۴ الدلد