فتاویٰ کفر اور ناجی جماعت — Page 124
۱۲۴ ایک رتی بھر بھی شک کی گنجائش باقی نہیں رہی جنت مسیح موعود میرا سلام فرماتے ہیں۔جب کھل گئی سچائی پھر اسکو مان لینا نیکوں کی ہے یہ خصلت راہ حیا یہی ہے (درشین ) حضرت مسیح موعود علی السلام فرماتے ہیں۔ار پھر عقلمند کو ماننے میں کیا تائل ہو سکتا ہے، جب وہ ان تمام امور کو جو بیان کئے جاتے ہیں۔یکجائی نظر سے دیکھے گا۔اب مدعا اور منشا اس بیان سے یہ ہے کہ جب خدا تعالی نے یہ سلسلہ قائم کیا ہے۔اور اسکی تائید میں صدہ ہانشان اس نے ظاہر کئے ہیں۔اس سے اسکی عرض یہ ہے کہ یہ جماعت صحابہ کی جماعت ہو اور پھر خیر القرون کا زمانہ آجاوے جو لوگ اس سلسلہ میں داخل ہوں چونکہ وہ آخَرِينَ مِنْهُمُ میں داخل ہوتے ہیں۔اس لئے وہ جھوٹے مشاغل کے کپڑے اتار دیں۔اور اپنیے ساری توجہ خدا تو کالی کی طرف کریں۔پیج اعوب ( شیر بھی فوج ) کے دشمن ہوں۔اسلام پر تین زمانے گزرے ہیں۔ایک قرون ثلاثہ اسکے بعد فیج اعوج کا زمانہ جسکی بابت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لو امتى ولَستُ مِنْهُم - یعنی وہ مجھ سے ہیں اور نہ میں اُن سے ہوں اور تیرازہ مستانہ مسیح موعود کا زمانہ ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم ہی کے زمانہ سے ملحق ہے بلکہ حقیقت میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علی سے کم کا زمانہ ہے۔فیج اعوجا کا ذکر اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہ بھی فرماتے تو یہی قرآن شریف ہمارے ہاتھ میں ہے اور اخرينَ مِنْهُم لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمُ صاف ظاہر کرتا ہے کہ کوئی زمانہ ایسا بھی ہے جو صحابہ کے مشرب کے خلاف ہے اور واقعت بتا رہے ہیں کہ اس سال کے درمیان اسلام بہت ہی مشکلات اور مصائب