فتاویٰ کفر اور ناجی جماعت — Page 118
نے دیکھا کہ واقعی ایسا ہی ہوا ہے اس طرح تین سال کے لمبے عرصہ کی قید سے مسلمانوں نے نجات پائی۔تاریخ اسلام کا یہ پہلا واقعہ ہے کہ یا ہم اختلاف رکھنے والے قبیلے جو ایک نظر بھی دوسرے کو نہیں دیکھ سکتے تھے مسلمانوں کے خلاف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف آپ کے ماننے والوں کے خلاف متحد ہو کہ بیٹھ گئے۔بالکل ایسا ہی واقعہ اس زمانہ میں بھی پیش آیا اور چودہ سو سال پرانی تاریخ پھر دہرائی گئی۔امام مہدی علیہ السلام کی قائم کردہ جماعت جب چهار جہت پھیلنی شروع ہوئی اور اس زمانہ کے علماء سو اس کے مقابلہ کی تاب نہ لا سکے تو اُن کے دلوں میں بھی ایک خوف پیدا ہوا۔اور وہ دل جو کہ ایک دوسرے کے لئے پھٹے ہوئے تھے جن کے نمونے آپ پڑھ چکے ہیں وہ بھی جماعت احمدیہ کے بالمقابل اکٹھے ہو گئے اور پاکستان کی نام بنیا د قومی اسمبلی میں نمبران اسمبلی سر جوڑ کر بیٹھے اور اسمبلی کے باہر مجلس عمل کے نمائندے جو پاکستان کے سات کروڑ مسلمانوں کی نمائندہ تھی ایک ویسا ہی فتویٰ ان لوگوں نے بھی تیار کیا۔مختلف دفعات لگاتے ہوئے فیصلہ یہ کیا کہ جو شخص بھی احمدیوں میں سے ان باتوں یا کاموں کو کرے گا تو اُسے تین سال قید ہوگی۔خدا نے کفار مکہ کے ذریعہ مسلمانوں پر ہوئے تین سالہ ظلم کے عرصہ کو جو انہوں نے اپنے وقت کی قومی اسمبلی میں کیا تھا پاکستان کی قومی اسمبلی کے ممبران کے ہاتھوں کو باندھ کر لکھوایا۔اور ہر دو قومی اسمبلی کے فیصلوں میں زبر دست مشابہت قائم کر دی۔اے پڑھنے والو ! بتاؤ کہ آغاز اسلام میں قید و بند کی تکالیف دینے کا فیصلہ کرنے والے کون تھے ؟ اور پھر جن پر یہ ظلم ہوا وہ کون تھے ؟ آج بھی اگر وہی تاریخ پھر دہرائی جاتی ہے تو ما انا علی اصحابی کے مطابق ظلم کرنے والے کون ہوئے اور جس پر حد مقرر کی جاتی ہے وہ کون ؟