فتاویٰ کفر اور ناجی جماعت — Page 119
114 ۱۳ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مسلمان کفار کے ظلم سے تنگ آکر دوسرے ممالک کی طرف ہجرت کر تے۔اس ہجرت کا ایک مقصد تو یہ ہوتا کہ نئے علاقوں میں جا کر تبلیغ اسلام کریں اور دوسرا یہ مقصد ہوتا کہ تا سکون کی زندگی بسر کریں۔لیکن کفار مکہ اُن مسلمانوں کا پیچھا کرتے اور دیگر ممالک کے بادشاہوں کو مسلمانوں کے خلاف اکساتے۔مسلمانوں کے حبشہ کی طرف ہجرت کر جانے کا واقعہ بڑا مشہور ہے پھر کفار مکہ کا نجاشی کو جا کر مسلمانوں کے خلاف اکسانے کا واقعہ بھی کسی سے پوشیدہ نہیں۔بالکل وہی طریق آج تمام مسلمانوں کے فرقوں کے علماء نے مل کر جماعت احمدیہ کے خلاف اختیار کر رکھا ہے۔اول تو اپنے ملکوں میں ظلم کرتے ہیں اور اگر احمدی دیگر ملکوں میں چلے جائیں تو ان کا پیچھا کرتے ہوئے وہاں۔۔۔۔۔جاتے اور وہاں کی حکومتوں کوہ جماعت احمدیہ کے خلاف اکسا تے ہیں۔اور تبلیغی کاموں میں روکاوٹیں پیدا کر نے کی کوشش کر تے ہیں۔اس بات کی شہادت کے لئے آپ مطالعہ که ین کتاب دارالعلوم دیوبند احیاء اسلام کی عظیم تحریک ص۲۷۳ تا ۲ جس میں خود ہمارے مخالف علماء نے اپنے خلاف شہادتیں جمع کر دی ہیں جس میں انہوں نے دیگر ممالک کے سربراہان کو جماعت کے خلاف اکسانے کی اپنی کوششوں کا ذکر کیا ہے بالکل اسی طرح جس طرح مسلمانوں کے خلاف کفار مکه دیگر سر برایان ممالک کو مسلمانوں کے خلاف اکسایا کرتے تھے غور کریں اور بتائیں کہ اب کفار مکہ کے نقش ) قدم پر کون ہے اور ما انا علیہ واصحابی کا مصداق کون ؟ ما آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : عَنْ حَذَيْفَةَ رضي الله عنه قال قَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم تَكُونَ النُّبرَ فِيكُمْ مَا شَاء اللهُ اَنْ تَكُونَ ثُمَّ يَرْفَعُهَا الله تعالى ثمَّ تَكُونُ خِلَافَةَ عَلَى مِنْهَاجِ۔النبوة ما شاء الله اَنْ تَكُونَ ثُمَّ يَرْفَعَهَا اللهُ تَعَالَى ثم تكون ملكاً عاماً فَتَكُونَ مَا شَاء الله أن تكون ثم يرفعها الله تعالى ثم تكون ملكًا جَبْرِيَّةً فَيَكُونُ مَا شَاءَ اللهُ أنْ يَكُونَ ثُمَّ يَرْفَعُهَا اللهُ تعالى ثُمَّ تَكُونَ۔