فتاویٰ کفر اور ناجی جماعت

by Other Authors

Page 92 of 158

فتاویٰ کفر اور ناجی جماعت — Page 92

۹۲ عمت اسلامیہ کا موقف نامی کتاب اسمبلی میں پیش کی گئی، قادیانیوں کی طرف سے ریوائی اور لاہوری پارٹیوں کے سربراہوں نے اپنے اپنے موقف کی وضاحت کے لئے اپنے اپنے کتابچے پیش کئے۔ربوہ جماعت کے سربراہ مرزا ناصرا حد پر گیارہ دن تک ہم گھنٹے اور لاہوری جماعت کے امیر مسٹر صدر الدین پر سات گھنٹے جراج ہوئی۔وزیرا عظم بھٹو قادیانیوں کے حلیف رہ چکے تھے وہ انہیں غیر مسلم اقلیت قرار دیئے جانے پر رضامند نہیں تھے۔وہ قادیانیوں کو کسی نہ کسی طرح آئین کی تلوارہ کی ترد سے بچانا چاہتے تھے اور اس کے لئے وہ اپنی طاقت و ذہانت کا سارا سرمایہ صرف کر دینا چاہتے تھے چنانچہ حزب اختلاف کے ارکان سے جو مجلس عمل کے نمائندے تھے وزیر اعظم کی بار بار ملاقاتیں ہوئیں اور کئی بار صورت حال انتہائی نازک ہو گئی اور ایک محسوس ہوتا تھا کہ سفینہ ساحل پر پہنچ کر بھی بھٹو کی ضد سے غرق آب ہو جائے گا، آخری دن تو گویا ہنگامہ محشر تھا۔اُمید و بیم کی کیفیت اپنی آخری حدوں کو چھورہی تھی۔وزیر اعظم کی انا نے تصادم کے خطرے کو یقینی بنا دیا تھا بلکہ حکومت کی جانب سے پولیس اور انٹلی جنس کو چوکنا کر دیا گیا تھا، بڑے بڑے شہروں میں فوج لگا دی گئی تھی، لوگ گر فتار تھے وہ تو تھے ہی ان کے علاوہ ہزاروں علماء اور سر بر آوردہ کی گر فتاری کی فہرستین تیار ہو چکی تھیں، ادھر مجلس عمل کے نمائندے بھی گفتن بر دوش میدانِ عمل میں فوٹے رہے۔مولانا مفتی محمود صاحب قومی اسمبلی کے ممبر بھی تھے اور مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے ان چند مخصوص رہ نماؤں میں سے تھے جو اس تحریک کی گاڑی کو پٹڑوں کی بجائے اپنا خونِ جگہ۔