فتاویٰ کفر اور ناجی جماعت

by Other Authors

Page 91 of 158

فتاویٰ کفر اور ناجی جماعت — Page 91

۹۱ " مجلس عمل نے گذشتہ تیرہ سو سال کی تاریخ میں دوسری مرتبہ اجماع است کا موقع مہیا کیا ہے۔آج مرزائے قادیان کی مخالفت میں است کے ۷۲ فرقے متحد و متفق ہیں۔حنفی اور وہابی ، دیوبندی، بریلوی شیعہ شتی۔اہل حدیث۔سب کے علماء تمام پیر اور تمام صوفی اس مطالبہ پر متفق و متحد ہیں کہ مرزائی کا فر ہیں انہیں مسلمانوں سے ایک علیحدہ " اقلیت قرار دور از مینداره ر نومبر ۱۹۵۳ء ص کالم (۶۶) پھر ۱۹۷۴ء میں جو ظالمانہ فیصلہ ان علماء نے کیا اس پر بھی اخباروں نے شہ سرخیاں لگائیں تھیں اور بڑے فخر سے یہ اعلان کئے تھے کہ جماعت احدیہ کے خلاف بہتر فرقوں کا اجماع ہوا ہے۔نوائے وقت نے لکھا: اسلام کی ساری تاریخ میں اس قدر پور ہے طور پر کسی اہم مسئلہ پر کبھی اجماع امت نہیں ہوا۔اجماع امت میں ملک کے بڑے بڑے علماء دین اور حاملان شرع متین کے علاوہ تمام سیاسی لیڈر اور ہر گروپ کا سیاسی راہنما کما حقہ متفق ہوئے ہیں۔اور صوفیاء کرام اور عارفین بالله برگزیدگان تصوف و طریقت کو بھی پورا پورا اتفاق ہوا ہے قادیانی فرقہ کو چھوڑ کر جو بھی ہے فرقے مسلمانوں کے بتائے جاتے ہیں سب کے سب اس مسئلہ کے اس حل پر متفق اور خوش ہیں۔" نوائے وقت بر اکتوبر ۱۹۷۴ ء ) اگر اب بھی کسی کو اس بات کا یقین نہ ہو کہ اس ظالمانہ فیصلہ کے وقت بہتر فرقے ایک طرف اور جماعت احمدیہ ایک طرف تھی تو وہ اس حوالہ کو پڑھنے میں میں پاکستان کی قومی اسمبلی کے اندر اور باہر ہونے والی کارروائی کی تفصیل موجود ہے۔اگرچہ نہیں اس بات سے اتفاق نہیں کیونکہ ہر فرقہ نے اس کارِ خیر کو اپنی طرف منسوب کر کے ایسے ڈینگیں ماری حسین قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی نے قادیانی شبیلہ پر غور و فکر کرنے کے لئے دو مہینے میں ۲۰ اجلاس کیئے اور ۹۶ گھنٹے نشستیں کیں ، مسلمانوں کی طرف سے