فتاویٰ کفر اور ناجی جماعت

by Other Authors

Page 1 of 158

فتاویٰ کفر اور ناجی جماعت — Page 1

بسم الله الرحمن الرحيم بمحمد صلى على رسوله الكريمي خُدا کے فضل اور رحم کے ساتھ خدا تعالٰی نے بنی نوع انسان کی ہدایت کے لئے ہر زمانہ میں انبیاء کے سلسلہ کو جاری فرمایا۔ایمان لانے یا انکار کرنے کا اختیار انسانوں پر چھوڑا۔اور ہر دو گروہوں کے لئے انعام اور سنرا کی تفصیل بیان فرما دی۔انسانی فطرت مذہب کے معاملہ میں کچھ ایسی واقع ہوئی ہے کہ انبیاء کے پیغام حق دینے کے ساتھ ہی اکثر لوگ انکار کی طرف دوڑتے ہیں۔اور بہت کم ایسے ہوتے ہیں جن کی سعید فطرت صداقت کو قبول کرتی ہے۔دنیا میں کوئی ایک نبی بھی ایسا پیدا نہیں ہوا جس کو دعواے کے ساتھ ہی لوگوں نے قبول کر لیا ہو۔چنانچہ خدا تعالے قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ : يحسرة عَلَى الْعِبَادِ مَا يَا تِهِمْ مِنْ رَّسُولِ إِلا كَانُوا ریس آیت : ۳۱) بِهِ يَسْتَهْزِعُونَ یعنی ہائے افسوس (انکار کی طرف مائل) بندوں پر کہ جب کبھی بھی آپ کے پاس کوئی رسول آتا ہے وہ اس کو حقارت کی نگاہ سے دیکھنے لگ جاتے ہیں رادر تمسخر کر نے لگتے ہیں) اسی طرح سورۃ الزہ شریف میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَمَا يَا تِيهِمْ مِن نبي إلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَوِرْعُون (التشرف آیت ) یعنی اور اُن کے پاس کوئی نبی نہ آتا تھا کہ وہ اس سے کسی نہ کرتے ہوں۔قرآن کریم کی اس شہادت کا کوئی انکار نہیں کر سکتا یہ بات ہر نبی کے ساتھ ہر زمانہ میں ہوئی۔اگر چند ایمان لانے والے پیدا ہوئے تو اکثریت انکار کرنے والوں کی مقابلہ میں کھڑتی ہوگئی۔خدا تعالیٰ نے ایک دوسرے مقام پر فرمایا ہے کہ ت كَذلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِي عَدُدًّا شَيْطَينَ الإِنسِ وَالجَن