فتاویٰ کفر اور ناجی جماعت

by Other Authors

Page 90 of 158

فتاویٰ کفر اور ناجی جماعت — Page 90

۹۰ نہ ہی ان کی اس بات پر غصہ ہے یہ تو ہونا ہی تھا۔پاکستان نے یہ فیصلہ کر کے حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی چودھا سو سالہ پیشگوئی کو سچا کر دکھایا جس میں آپ نے فرمایا تھا کہ کل ایک طرف ہوں گے اور ایک ایک طرف اور وہ جماعت ہوگی۔فیصلہ کر نے والوں کی عقل پر بھی حیرت ہوتی ہے کہ فیصلہ یہ کیا کہ ہم بہتر مسلمان اور یہ جماعت غیر مسلم جبکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا کہ بہتر غلط اور ایک صحیح اور وہ جماعت ہوگی۔پس خدا تعالیٰ نے صداقت احمدیت خود علماء کے ذریعہ ظاہر فرما دی ان کی عقلوں پر پردے ڈال دیئے اور جماعت کو خود ان کے ذریعہ سے جہنمی فرقوں سے علیحدہ کروا کر ممتاز کر دیا۔اب ان علماء کے ہاتھ اس فیصلہ کے بعد سوائے کف افسوس ملنے کے اور کچھ بھی باقی نہیں رہ گیا۔جماعت احمدیہ کے بالمقابل جماعت احمدیہ کو غیر مسلم قرار دینے کے لئے بہتر فرقوں کا اتحاد علماء نے رات دن زور لگایا اور بقبول اُن کے وہ کامیاب بھی ہو گئے۔جس کو تمام فرقوں کے علماء نے اپنی کامیابی بتایا۔جب علماء سے بات ہوتی ہے تو علماء بڑے چکر میں پڑ جاتے ہیں کہ واقعی پاکستان کی قومی اسمبلی نے جو فیصلہ دیا وہ۔تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کے بالکل خلاف ہو گیا تو پھر اُن کے پاس اس بات کے سوا کوئی چارہ نہیں رہتا کہ وہ یہ کہیں کہ پاکستان کی قومی اسمبلی میں سے بہتر فرقوں کے نمائندے نہیں تھے یہ بات غلط ہے کہ تمام فرقوں کے نمائندے وہاں موجود تھے اور وہ سب اس پر متفق ہوئے ہیں۔اصل بات یہ ہے کہ پاکستان کی قومی اسمبلی تو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کی گئی ہے اصل میں ایک مجلس عمل قائم ہوئی اور جو بھی غیر مسلم قرار دینے کی کارروائی ہوئی یہ سب ان کی چھالوں اور شرارتوں اور کاوشوں کا نتیجہ ہے۔۱۹۵۲ء میں بھی اس کام کے لئے ایک مجلس عمل بنی تھی اس بات کا اقرار خود انہوں نے کیا ہے چنانچہ مولوی اختر علی خان ابن مولوی ظفر علی خان صاحب نے لکھا ہے کہ :