فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 172
لمقصود ھٰھنا (ابوسعود){ FR 5366 } النسخ فی اللغة الابطال و الازالة و یراد بہ النقل و التحویل والاکثر علی انہ حقیقة فی الازالة مجاز فی النقل (حصول){ FR 5367 } النسخ النقل و التحویل و الثانی الرفع و الازالة (مظہری){ FR 4790 } فقرہ دوم۔فقرہ اوّل میں معلوم ہو چکا کہ نسخ کے معنی ابطال اور تغییر اور نقل کے ہیں اور یہ بھی معلوم ہوا کہ آیة ماننسخ میں ابطال کے ہی معنی مطلوب ہیں۔جیسے ابوسعود‘ مجمع البحار اور خفاجی سے ظاہر ہے۔علاوہ بریں جب ہم ناسخ اور منسوخ کا ذکر کرتے ہیں تو نقل والے معنے ضرور نہیں لئے جاتے۔کیونکہ اس صورت میں سارا قرآن منسوخ ہے اور تغییر کے معنی بھی مراد نہیں کیونکہ مطلق کی تقیید اور عام کی تخصیص اور ایزاد شروط اور اوصاف کو اگر نسخ کہیں تو قرآن کی منسوخ آیتیں سینکڑوں کیا ہزاروں ہو جاتی ہیں۔تخصیص اور نسخ اور تقیید اور نسخ کا تفرقہ ثابت ہے۔ونثبت انشاء اللہ تعالیٰ یاد رکھو کہ ابطال ہی کے معنے میں نسخ کا لفظ قرآن کریم میں وارد ہوا ہے۔والقرآن یفسر بعضہٗ بعضًا قال اللہ تعالَى: إِلَّا إِذَا تَمَنّٰى أَلْقَى الشَّيْطَانُ فِي أُمْنِيَّتِهٖ فَيَنْسَخُ اللهُ مَا يُلْقِي الشَّيْطَانُ الخ اَیْ یُزِیْلُهٗ وَ یُبْطِلُهٗ۔{ FR 5368 } اور یاد رکھو کہ نسخ کے حقیقی معنی ابطال اور ازالہ کے ہیں حقیقی معنی کو بدوں ضرورت چھوڑنا جائز نہیں اور ان معنے کے لحاظ سے قرآن میں کوئی آیت { FN 5366 } اَلنَّسْخُ کے معنی ہیں نقل کرنا، اور ایک کتاب کی دوسری (کتاب) سے کاپی تیار کرنا۔اور اس کے دوسرے معنی ہیں روک دینا اور زائل کردینا اور یہاں یہ ہی مقصود ہے۔{ FN 5367 } لغت میں نسخ کے معنی ہیں باطل کرنا اور مٹا دینا اور اس سے مراد ہے نقل کرنا اور تبدیل کردینا۔اور اکثر کا خیال ہے کہ اس کے حقیقی معنی زائل کرنے کے ہیں اور مجازی معنی نقل کے ہیں۔{ FN 4790 } نسخ کے معنی ہیں نقل کرنا اور تبدیل کردینا۔اور اس کے دوسرے معنی اُٹھا لینا اور زائل کردینا بھی ہیں۔{ FN 5368 } اور قرآن کا ایک حصہ دوسرے حصہ کی وضاحت کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے کہا: مگر جب بھی وہ کوئی خواہش کرتا ہے تو شیطان اُس کی خواہش میں رکاوٹ ڈال دیتا ہے پھر اللہ اُس کو جو شیطان ڈالتا ہے مٹا دیتا ہے …… یعنی اسے زائل کردیتا ہے اور ختم کردیتا ہے۔