فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 167
معجمہ عن محمد بن اسحاق و سبب ھذا لوھم التقلید فان شیخ الاسلام ذکر فی المبسوط ایضًا ھٰکذا و کذا ذکرہ صاحب البدایع و الّذی وضعہ رسول اللہ فی قبرہ۔ھو ذوالبحادین و اسمہ عبد اللہ و کان اولا اسمہ عبد العزیٰ فغیرہ رسول اللہ صلعم الیہ مات فی غزوة تبوک و البِجاد بکسر البائ الموحدة الکسائ الغلیظ و لّما اراد المصیر الی رسول اللہ قطعت امّہ بجاد ا لھا فارتدئ باحدھما واتزر بالاخری فلقب بہ انتہی کلامہ قلت لقد صدق فی ان سبب ھذا لوھم التقلید وقد قلدھم العینی ایضا فی منحة السلوک شرح تحفة الملوک فذکر ما ذکرہ صاحب الھدایة فلم یصب و قصة دفن ذی البجادین مرویة فی حلیة الاولیائ للحافظ ابی نعیم وغیرہا۔ہدایہ کی مسامحات سے ہے قول اس کا باب جنائز میں ایسا ہی کہا رسول اللہ صلعم نے جب ابودجانہ کو قبر میں رکھا الخ اور یہ بات غلط ہے کیونکہ ابودجانہ رسول اللہ صلعم کے بعد یمامہ کی لڑائی میں سنہ بارہ ہجری میں فوت ہوا۔جناب ابوبکر صدیق کے زمانہ میں جیسے واقدی نے کتاب الردةمیں بیان کیا۔ایسا ہی زیلعی نے کہا اور عینی نے کہا یہ کھلا وہم ہے کیونکہ ابودجانہ یمامہ کی لڑائی میں مارا گیا جیسے طبرانی نے اپنی معجم میں ابن اسحاق سے روایت کیا ہے کہ اس وہم کا موجب تقلید ہے کیونکہ شیخ الاسلام نے مبسوط میں بھی ایسا ہی ذکر کیا ہے اور ایسا ہی ذکر کیا۔بدایع والے نے اور جس کو رسول اللہ ؐنے قبر میں رکھا۔وہ ذوالبجادین ہے اور اس کا نام عبد اللہ ہے۔پہلے اس کا نام عبدالعزّٰی تھا پھر رسول اللہ صلعم نے بدل دیا۔یہ شخص غزوہ تبوک میں مرا۔بِـجاد بے کی زیر سے موٹی چادر کو کہتے ہیں جب اُس شخص نے رسول اللہؐ کی طرف جانا چاہا تو اس کی ماں نے اپنی چادر پھاڑ دی۔اس نے ایک ٹکڑا اوڑھ لیا اور دوسرا کمر میں باندھ لیا۔پس وہ اسی سے نامزد ہو گیا۔یہ ٹھیک ہے کہ اس وہم کا باعث تقلید ہے اور عینی نے منحة السلوک شرح تحفة الملوک میں ایسی ہی تقلید کی ہے اور ایسا ذکر کیا جیسا ہدایہ والے نے کہا اور غلطی کھائی اور ذوالبجادین کا قصّہ حِلیةُ الاولیاء میں حافظ ابونعیم وغیرہ نے بیان کیا۔