فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 166
اور یہ ایسی برا ئی ہے جس کی قباحت کھلی ہے اور یہ وہ قباحت ہے جس کی زیادہ برائی بیان کرنے کی حاجت نہیں اور اس مسئلہ کو ہدایہ والا بھی لایا ہے۔اِلاَّنہ اس برُی طرح۔اور نسبت کیا استلقاء کا عمل سنت کے خلاف اپنے ملک والوں کی طرف بدوں اس کے کہ تصریح کرے کہ اہل فتویٰ نے اسے پسند کیا۔پس ہدایہ کا کلام محتمل ہے کہ طعن ہو سنت کے مخالفوں پر اس کے ملک والوں سے۔اور ضرور ہوا کہ یہی بات قرار دین تو کہ عالم کا کلام حتی الامکان اس بات سے نکل جاوے جس میں عالم کی برائی نکلے۔بخلاف کلام مختصر کے۔اور خدا کے آگے دکھ ظاہر کرتے ہیں جبکہ زمانہ والوں کو دیکھتے ہیں کہ ایسی برُی بات کا جواب دینے لگتے ہیں اور اس کی تصحیح ایسے کلام سے کرتے ہیں جس کے لئے سننے والے کے کان بھی نہیں اٹھتے۔چہ جائے کہ سمجھنے والا کچھ سمجھے۔قبلہ کی طرف منہ کرنا برَاء بن مَعرور کے قصہ سے ثابت ہے وہ یہ کہ جب(رسول اللہ) صلعم مدینہ میں آئے برَاء کا حال پوچھا۔لوگوں نے عرض کیا وہ مر گیا اور تہائی مال آپ کے لئے کہہ گیا اور وصیت کی مرتے وقت کہ قبلہ کی طرف اس کا مونہہ کیا جاوے۔رسول اللہؐ نے فرمایا فطرت کو پہنچا ثلث اس کا اس کی اولاد کے لئے روایت کیا حاکم نے اِلاَّ یہ کہ دائیں کروٹ پروہ لٹایا جاوے۔پس کہا گیا کہ ہو سکتا ہے اس پر استدلال نوم کی حدیث سے صحیحین میں برَاء ابن عاَزب سے آپ نے رسول اللہ صلعم سے روایت کیا جب آئے تو اپنے بستر پر الخ اور وہ جوروایت کیا امام احمد نے اُمّ سلمہ سے اس نے فاطمہؓ سے وہ کروٹ پر قبلہ کو منہ کر کے سوئی اور اس نے ہاتھ کو رخسارے کے نیچے رکھا پھر کہا ماں میں مرتی ہوں اور ستھری ہو چکی ہوں میرے کپڑے کوئی نہ اتارے۔پس مر گئی۔یہ بات ضعیف ہے۔انتہا کی درسی کتابوں میں ہدایہ ہے اس کے مقدمہ میں ہدایہ پر کہا ہے و منھا (المسامحات) قولہ فی باب صلوة الجنائز کذا قالہ رسول اللہ صلعم حین وضع ابادجانة فی القبر الخ ھذا غلط فان ابادجانة توفی بعد رسول اللہ فی وقعة الیمامة سنة اثنی عشرة فی خلافة ابی بکر الصدّیق کَمَا رواہ الواقدی فی کتاب الرَدّة کذا قال الزیلعی و قال العینی ھذا و ھم فاحش فان ابادجانة قتل یوم الیمامة کما اسندہ الطبرانی فی