فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 14
فَثَقُلَتْ عَلَيْهِ القِرَاءَةُ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ إِنِّيْ أَرَاكُمْ تَقْرَءُوْنَ وَرَاءَ إِمَامِكُمْ، قَالَ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللهِ إِيْ وَ اللهِ، قَالَ۔لَا تَفْعَلُوْا إِلَّا بِأُمِّ القُرْآنِ، فَإِنَّهٗ لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَّمْ يَقْرَأْ بِهَا۔(رواہ ابوداؤد و الترمذی) وَفِی لَفْظٍ : فَلَا تَقْرَءُوْا بِشَيْءٍ مِنَ الْقُرْآنِ إِذَا جَهَرْتُ بِہٖ إِلَّا بِأُمِّ الْقُرْآنِ۔رواہ ابوداوٗد والنسائی والدارقطنی وقال كُلُّهُمْ ثِقَاتٌ۔(منتقٰی){ FR 4495 } دارقطنی کی حدیث کو امام احمد نے اپنی مسند میں روایت کیا اور بخاری نے جزء القراءة میں اس کو روایت کیا اور ابودائود اور ترمذی اور دارقطنی اور ابن حباّن اور حاکم اور بیہقی نے ابن اسحاق کے واسطہ سے روایت کیا ہے جو کہا اس نے۔حدیث کی مجھ کو مکحول نے اس نے محمود بن ربیعہ سے اس نے عبادہ ؓسے اور ان سب نے اس حدیث کو صحیح کہا اور ابن اسحاق یہاں منفرد بھی نہیں بلکہ تابع ہوئی اس کو زید بن واقد (جو اہل شام کے ثِقات سے ہے) وغیرہ مکحول سے اور اس حدیث کے شواہد سے ہے وہ جو روایت کیا اس کو احمد نے خالد حَذّاء کے واسطہ سے ابوقلابہ سے اس نے محمد ابن ابی عائشہ سے اس نے ایک صحابی سے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے شاید کہ تم پڑھتے { FN 4495 } حضرت عبادہ بن صامتؓ سے روایت ہے۔انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے صبح کی نماز پڑھائی تو آپؐ پر تلاوت مشکل ہوگئی۔جب آپؐ فارغ ہوئے توفرمایا: میں دیکھتا ہوں کہ تم اپنے امام کے پیچھے پیچھے پڑھتے ہو۔حضرت عبادہؓ نے کہا: ہم نے عرض کیا: یارسول اللہ! جی ہاں، بخدا (ہم ایسا ہی کرتے ہیں) آپؐ نے فرمایا: اُمّ القرآن (یعنی سورۂ فاتحہ) کے سوا ایسا نہ کیا کرو۔کیونکہ جس نے اسے نہ پڑھا اس کی نماز نہیں ہے۔(ترمذی، أبواب الصلاۃ، بَابُ مَا جَاءَ فِي القِرَاءَةِ خَلْفَ الإِمَامِ) (ابو داوٗد،کتاب الصلاۃ، بَابُ مَنْ تَرَكَ الْقِرَاءَةَ فِيْ صَلَاتِهٖ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ) اور (یہ روایت) ان الفاظ سے بھی آتی ہے کہ جب میں (نماز میں) قراءت بالجہر کروں تو تم اُمّ القرآن (یعنی سورۂ فاتحہ) کے علاوہ قرآن سے کچھ نہ پڑھا کرو۔یہ روایت ابوداوٗد‘ نسائی اور دارقطنی نے روایت کی ہے اور کہا ہے کہ اس کے تمام راوی ثقہ ہیں۔(منتقیٰ)۔(ابو داوٗد،کتاب الصلاۃ، بَابُ مَنْ تَرَكَ الْقِرَاءَةَ فِيْ صَلَاتِهٖ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ) (سنن النسائی، کتاب الافتتاح، قِرَاءَةُ أُمِّ الْقُرْآنِ خَلْفَ الْإِمَامِ فِيْمَا جَهَرَ بِهِ الْإِمَامُ) (سنن الدار قطنی، کتاب الصلاۃ، بَابُ وُجُوبِ قِرَاءَةِ أُمِّ الْكِتَابِ فِي الصَّلَاةِ وَخَلَفَ الْإِمَامِ)