فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 15
ہو جس وقت امام پڑھتا ہے۔صحابہ نے عرض کیا بے شک ہم ایسا ہی کرتے ہیں فرمایا۔ایسا مت کر مگر یہ کہ پڑھے ایک تم میں کا فاتـحة الکتاب کو۔حافظ ابن حجر نے کہا کہ یہ اسناد َحسن ہے۔یہ بات تلخیص حافظ میں ہے جس کو تخریج احادیث رافعی بھی کہتے ہیں۔اور جس طریق کو بیہقی نے غیرمحفوظ کہا ہم نے اس طریق کو بھی چھوڑ دیا۔اور نَیل { FR 4480 } میں کہا محمد بن اسحاق نے تحدیث پر تصریح کر دی ہے۔پس مظنّہ تدلیس کا جاتارہا۔علاوہ بریں اس کے اور بھی تابع ہو چکے ہیں جیسے زیدؔ اور سعیدؔ اور عبد اللہؔ اور ابن جابرؔ دیکھو ابودائود۔عینیؔ نے جو اس حدیث پر اعتراض کیا ہے اس کا مختصر جواب یہاں میرے کلام میں مذکور ہے۔آگے مفصل آتا ہے (انشاء اللہ تعالیٰ) اور مولانا مولوی اسلام اللہ نے جو شیخ عبد الحق دہلوی کی اولاد میں سے ہیں مؤطا کی شرح محلّٰی میں لکھا ہے کہ عبادہ کی اس حدیث کو دارقطنی اور ابن حباّن اور بیہقی نے بھی روایت کیا ہے اور ترمذی نے اس کو َحسن کہا ہے۔اور دارقطنی نے کہا ہے اس کا اسناد َحسن ہے اور اس کے رِجال ِثقات ہیں اور خطابی نے کہا کہ اس کا اسناد جیدّ ہے۔اس میں طعن کی جگہ نہیں۔اور حاکم نے کہا کہ اس کا اسناد مستقیم ہے۔اور بیہقی نے کہا کہ یہ حدیث صحیح ہے۔ایسا ہی ابن الملقن نے نقل کیا۔جواب الجواب مولوی صاحب نے اصل سوال کے جواب میں یہ فرمایا ہے۔مطلق قراءت فرض است خصوصیت فاتحہ را دخلے نیست۔لِقَوْلِہٖ تَعَالٰی۔فَاقْرَؤُا مَا تَیَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ { FR 5025 } وتخصیص عام نسخ عام است۔{ FN 4480 } یعنی نَیل الْاَوطار۔(ناشر) { FN 5025 } اللہ تعالیٰ کا قول’’ فَاقْرَءُوْا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ ‘‘ یعنی پس قرآن میں سے جتنا میسر ہو پڑھ لیا کرو۔