فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 184 of 200

فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 184

مَسِّ ذَکَرسے وضو کرنا۔یا عدم انزال میں غسل کر لینا ایسا ہی ایک مومن صابر کا دس کفار کا مقابلہ کرنا۔اور رسول سے گوشہ کرنے میں صدقہ دینا عزیمت ہے اور یہ کام نہ کرنا رخصت۔وتر کی ایک یا تین یا پانچ یا سات یا نو رکعتیں باختلاف انواع سب درست ہیں اور یہ اختلاف ایسا ہے جیسے نماز میں کبھی رسول اللہ صلعم نے کوئی سورت پڑھی کبھی کوئی۔خرگوش کے استعمال میں اگر کوئی کراہت کی دلیل پیش کرے (گو دلائل پیش شدہ صحیح نہیں ہیں) تو اس کا کھانے والا اباحت اصلی کو بعد تسلیم تعارض مرجح کہہ سکتا ہے۔مومن کا عمداً قتل ابدی سزا کا سبب ہے اور قاتل کا سچا ایمان اور رحمت الٰہیہ اور شفاعت شافعین بلکہ توبہ وغیرہ اس ابدی سزا کے مانع ہیں اس تجاذب کی حالت میں قویٰ کامؤثر ہونا ظاہر ہے۔فقرہ دہم۔روزمرہ کے مسائل میں رَفعِ یدَین اور فاتحہ کا مسئلہ لو۔جناب شیخ عبد الحق دہلوی سفر السعادت کی شرح میں فرماتے ہیں۔علماء مذہب ما بایں مقدار اکتفا نمی کنند و گویند کہ حکم رفع (رفع یدین عند الرکوع والرفع فسد الرفع فی ابتداء الثالثة) { FR 5506 }؂ منسوخ است وچوں ابن عمر را کہ راوی حدیث رفع ست دیدندکہ بعد رسول اللہ صلعم عمل بخلاف آں کردہ ظاہر شد کہ عمل رفع منسوخ است و از ایں ہمام نقل فرمودہ درنماز ابتداء حال اقوال و افعال از جنس ایں رفع (رفع یدین در سجدتین) مباح بودہ کہ منسوخ شدہ ست پس دور نیست کہ ایں نیز ازاں قبل باشد و مشمول نسخ بود۔انتہیٰ۔شیخ نے نسخ کا مدار اوّل تو ابن عمر کے نہ کرنے پررکھا۔دوم اس پر کہ جب سجدہ کے رفع یدین اجماعاً منسوخ ہے تو رکوع کو جاتے اور اٹھتے اور تیسری رکعت کی رفع بھی منسوخ ہو گی اور یہ دونوں باتیں تعجب انگیز ہیں۔اوّل تو اس لئے کہ ابن عمر کا رفع نہ کرنا ابوبکربن عیاش نے روایت کیا ہے اور یہ شخص معلول مختلط الخبر ہے۔دیکھو بخاری کی جزء الرفع اور ابن معین نے کہا توہمٌ من { FN 5506 }؂ رکوع کے وقت اور (رکوع سے) اُٹھتے وقت اور تیسری رکعت کے شروع میں اُٹھتے وقت رفع یدین کرنا۔