فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 183 of 200

فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 183

فقرہ ہفتم۔بعض صحابہ اور سلف سے تقیید اور تخصیص اور ابطال وغیرہ کو نسخ کہنا ثابت ہے اِلاَّ اوّل تو ان کے اور ساتھ والوں نے نسخ کے ایسے عام معنے نہیں لئے۔دویم۔اگر وہ تغییر کو نسخ کہتے تھے تو ان کے یہاں ایسے معنوں کی نسخ قرآن میں آحاد اخبار سے ممنوع نہ تھی۔ہمارے صاحبان نسخ کے معنوں میں انکا محاورہ لیتے ہیں اور پھر سنن ثابتہ سے قرآن کی یہ نسخ تجویز نہیں کرتے عملدرآمد میں اس اصطلاحی نسخ کونسخ بمعنی رفع الحکم کا مرتبہ دے رکھا ہے۔فقرہ ہشتم۔مَا نَنْسَخْ کا جملہ جملہ شرطیہ ہے اور شرط کا وجود ضرور نہیں۔دیکھو اِنْ کَانَ لِلرَّحْمٰنِ وَلَدًااِلٰی آیت۔پس آیت مَا نَنْسَخْ سے مطلق نسخ کا وقوع بھی ثابت نہیں ہو سکتا۔قرآن میں آیات منسوخة کا موجود ہونا اِس سے کیونکر ثابت ہو سکتاہے۔یاد رکھو مَیں مطلق وقوع نسخ کا انکار نہیں کرتا بلکہ کہتا ہوں کہ قرآن اور صحیحین اور ترمذی میں بالاتفاق منسوخ کوئی حکم نہیں (ترمذی میں جمع صلٰوتَین ظُہْرَین و مَغْرَبَیْن اور قتل شارب کی حدیث بھی منسوخ نہیں۔تفصیل اس کی دراسات وغیرہ میں موجود ہے) فقرہ نہم۔میں نے بہت ایسے لوگ دیکھے جن کا یہ ڈھنگ ہے کہ جب دو بظاہر متعارض حکموں کو دیکھا اور تطبیق نہ آئی لَا اَعْلَمُ کہنے سے شرم کھا کر ایک میں نسخ کا دعویٰ کر دیا۔یا جب کوئی نصّ اپنے فتویٰ کے خلاف سنی اوّل تو لگے اس میں تو جیہات جمانے جب یہ کوشش کارگر نہ ہوئی جھٹ دعویٰ کر دیا کہ ان میں سے فلاں حکم اجماع کے خلاف ہے۔جب اجماع کی غلطی معلوم ہوئی۔تو اجماع کو مقید کر دیا اور کہہ دیا کہ یہ اجماع اکثر کے اعتبار سے ہے۔جب اس کو بھی کسی نے خلا ف واقعہ ثابت کیا تو نسخ کا دعویٰ کر دیا۔حالانکہ بظاہر متعارض حکموں میں ایک کو عزیمت پر محمول کر لینے اور ایک کو رخصت پر یا اُن کے اختلاف کو اختلاف انواع سمجھنے پر محمول کرنے اور اباحت اصلیہ کو عارضی حرمت پر ترجیح کا موجب جان لینے اور شریعت کو اسباب اور موانع کا مبین مان لینے سے قریباً کل تعارض دفع ہو سکتے ہیں۔یہ عجیب قاعدہ تفصیل طلب ہے۔الا خط میں گنجائش نہیں۔چند مثالیں سن رکھو۔