فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 176
دوسری آیت وَعَلَی الَّذِیْنَ یُطِیْقُوْنَهٗ فِدْیَةٌ، قیل منسوخة بقولہ فَـمَنْ شَہِدَ مِنْکُمُ الشَّھْرَ فَلْیَصُمْہُ وقیل محکمة ولامقدرة قلت عندی وجہ آخر وھو ان المعنیٰ وَعَلَی الَّذِیْنَ یُطِیْقُوْنَ الطَّعَامَ فِدْیَةٌ ھِیَ طَعَامُ مِسْکِیْنٍ فاضمر قبل الذکر لانہ متقدمة رتبة وذکر الضمیر لان المراد من الفدیة ھو الطعام والمراد منہ صدقة الفطر۔عقب اللہ تعالی الامر بالصیام فی هذہ الآیة بصدقة الفطر کما عقب الآیة الثانیة بتکبیرات العید۔{ FR 4792 } خلاصہ کلام یہ ہوا کہ کسی نے کہا ہے کہ آیت منسوخ ہے آیت فَـمَنْ شَہِدَ کے ساتھ اور کسی نے کہا منسوخ نہیں اور لَا مقدرہے۔یاد رہے کبیر (یعنی الفوز الکبیر)میں لکھا ہے۔اَلْوُسْعُ اِسْمٌ لِمَنْ كَانَ قَادِرًا عَلَى الشَّيْءِ عَلٰى وَجْهِ السُّهُوْلَةِ أَمَّا الطَّاقَةُ فَهُوَ اِسْمٌ لِمَنْ كَانَ قَادِرًا عَلَى الشَّيْءِ مَعَ الشِّدَّةِ وَالْمَشَقَّةِ۔{ FR 4793 } پس لا کا مقدر کہنا نہ پڑا۔یااس کے معنے ہیں جو لوگ طعام دینے کی طاقت رکھتے ہیں فطرانہ میں ایک مسکین کا کھانا دے دیں۔فقیر کہتا ہے۔لَا مقدر کرنے کی حاجت اس لئے بھی نہیں کہ بابِ اِفعال کا ہمزہ سلب کے واسطے بھی آتا ہے دیکھو مفلس کے معنی فلوُس والا نہیں بلکہ یہ ہیں جس کے پاس فلوُس نہ ہوں پس یہاں یُطِیْقُوْنَ الخ کے معنے ہوئے جس میں طاقت نہ ہو روزہ کی وہ روزہ کے بدلے کھانا کھلا دے { FN 4792 } آیت کریمہ وَعَلَی الَّذِیْنَ یُطِیْقُوْنَهٗ فِدْیَةٌ (یعنی اور اُن لوگوں پر جو اس کی طاقت رکھتے ہوں فدیہ ہے) کے متعلق کہا گیا ہے کہ یہ منسوخ ہے اللہ تعالیٰ کے قول فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ سے (یعنی تم میں سے جو شخص اس مہینہ کو دیکھے تو چاہیئے کہ وہ اس کے روزے رکھے)، اور کہا گیا ہے کہ یہ حکم ہے استطاعت کا معاملہ نہیں ہے۔میں کہتا ہوں میرے پاس ایک اور توجیہ ہے اور وہ یہ کہ وَعَلَی الَّذِیْنَ یُطِیْقُوْنَ الطَّعَامَ۔یعنی اُن لوگوں پر جو کھانا کھلانے کی طاقت رکھتے ہیں ایک مسکین کا کھانا کھلانا فدیہ ہے۔اور اسے ذکر کرنے سے پہلے مضمر رکھا گیا ہے کیونکہ یہی (ضمیر) مرتبہ میں مقدم ہے۔اور ضمیر کو (پہلے) اس لیے ذکر کیا گیا ہے کیونکہ فدیہ سے مراد کھانا کھلانا ہے، اور اس سے مقصود فطرانہ ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں روزوں کا حکم فطرانہ کے حکم کے بعد رکھا ہے، جیسا کہ اُس نے دوسری آیت میں عید کی تکبیرات کا ذکر بعد میں کیا ہے۔{ FN 4793 } اَلْوُسْعُ اس کا نام ہے جو کسی چیز پر سہولت سے قدرت رکھتا ہو، اور طاقة اس کا نام ہے جو کسی چیز پر شدت و مشقت سے قدرت رکھتا ہو۔(التفسير الكبير للرازي، تفسیر سورة البقرة آیت184: وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهٗ)