فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 177
جیسے بوڑھا مرد یا بوڑھی عورت۔اس آیت کا منسوخ نہ ہونا بیان کیا بخاری نے ابن عباس سے اور حافظ ابونصر بن مردویہ نے عطاء سے۔میں کہتا ہوں بوڑھے ہی پر کیا حصر ہے۔حمل والی اور دودھ پلانے والی عورت (جیسے شافعی اور حسن بصری نے کہا) اور قطب شمالی اور جنوبی کے قریب کے رہنے والوں اور تمام ان لوگوں کو (جن سے روزہ کی برداشت نہیں ہو سکتی) یہی حکم ہے۔وَخَلَافُہٗ لَیْسَ بِثَابِتٍ۔{ FR 5396 } تیسری آیت۔كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِيْنَ الخ منسوخ بقولہٖ تعالیٰ اُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ اِلٰى نِسَآىِٕكُمْ اور دلیل میں لکھا ہے کہ موافقت کا مقتضی تھا کہ اہلِ کتاب کی طرح عورت سے صحبت کرنا اور کھانا نیند کے بعد حرام ہوتا ہے۔فوزالکبیر والے فرماتے ہیں۔یہ تشبیہ نفس وجوب میں ہے پس آیت منسوخ نہ ہوئی اور سچ ہے تشبیہ میں کل وجوہ کی مساوات نہیں ہوا کرتی۔چوتھی آیت۔يَسْـَٔلُوْنَكَ عَنِ الشَّهْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِيْهِ الخ منسوخ ہے قَاتِلُوْا الْمُشْرِكِيْنَ كَآفَّةً کے ساتھ۔فوز الکبیر میں ہے۔یہ آیت تحریم قتال پر دلالت نہیں کرتی بلکہ یہ آیت تو قتال کی مجوّز ہے۔البتہ یہ آیت عِلّت کو تسلیم کر کے مانع کا اظہار کرتی ہے۔پس یہ معنے ہوئے کہ اَشْہُرِ حُرم میں قِتَال بڑی سخت بات ہے لیکن فتنہ اس سے بھی بڑا ہے پس فتنہ کے مقابلہ میں قتال برُا نہ ہو گا۔پانچویں آیت۔وَالَّذِيْنَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ اِلٰی قَوْلِہٖ مَتَاعًا اِلَى الْحَوْلِ الخ منسوخة بآیة اَرْبَعَةَ اَشْهُرٍ وَّعَشْرًا والوصیة منسوخة بالمیراث والمسکن باقیة عند قوم منسوخة عند آخرین۔{ FR 5397 } فوز الکبیر میں ہے کہ جمہور حنفیہ اسے منسوخ کہتے ہیں۔{ FN 5396 } اور اس کے خلاف ثابت نہیں ہے۔{ FN 5397 } آیت کریمہ وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ …… (یعنی وہ لوگ جو تم میں سے وفات پا جائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں وہ اپنی بیویوں کے حق میں ایک سال تک فائدہ پہنچانے کی وصیت کرجائیں) آیت کریمہ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا (یعنی چار مہینے اور دس دن) سے منسوخ ہے۔اور وصیت کرنا ورثہ (کی آیت) سے منسوخ ہے اور رہائش دینا ایک جماعت کے نزدیک باقی ہے اور دوسروں کے نزدیک منسوخ ہے۔