فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 163
کرے جب تک قرآن اور حدیث اور اجماع امت اور جلی قیاس مسئلہ میں نہ جان لے۔شافعی نے کہا جب کوئی حدیث میری بات کے خلاف صحیح ثابت ہو۔میری بات دیوار پر پھینک دو اور عمل کرو حدیث پر جو ظاہر ہو یہاںتک کہ کہا کیدانی کی تکفیر کو یہی کافی ہے کہ اس نے محدثین کی اہانت کی وہ جو وہی دین کے عمائدہین اور اس کا قلت ادب اس لفظ سے سمجھا جاتا ہے جو اس نے کہا کاہل الحدیث اور یہ ادب کی کمی سوء خاتمہ کا سبب ہے کیونکہ ظاہر ہے کہ اہل قرآن اہل اللہ ہیں اور اہلِ حدیث اہل رسول اللہ ہیں (اتنا تفرقہ بھی غلط) اور پڑھا نبی کے اہل اہل حدیث یہی ہیں۔اگرچہ یہ لوگ جناب کی صحبت میں نہیں بیٹھے اس کی باتوں کے صحبتی ہیں۔اور اوسط متون میں مختصر وقایہ ہے اس کے ایک لفظ پر دراسات میں کہا۔و من اقبح ذالک و اشنعہ ما فی المختصر وشرحہ لابی المکارم سن المختصر ان یوجہ الی القبلة کما ھو السنة فی القبر و اختیر الاستلقائ و ان کان الاول سنّة لکونہ ایسر لخروج الرّوح انتہٰی۔فلفظ الاضطجاع والتوجّہ الی القبلة منصوص معناہ لا احتمال لہ و معہذ اخالفوہ من غیرمبالاة و مع المخالفة شھدوا علی انفسھم انھا لیست من جھلھم بالحدیث حتی یعذ رون بجہلھم بل مع العلم عمد اومع العمد صرّحوا انھا لیست ھی لاحتمال ان یکون مستند اھل الاختیار و الفتوٰی علی ما ھو مخالف قول نبیھم صلعم حدیثا آخر نا سخا لہ اوراجحا علیہ بوجہ من وجوہ الترجیح بل التّرجیح بامرلایعرف الّانقلا عن الاطبّائِ واللہ تعالیٰ اعلم بایسر منھما کما فی فتح القدیر اللّٰھمّ الا ان یقال ھو امر طبّيٌ مظنون فان یسرخروج الروّح فی ھیئة الا ستلقائ شیئی مزاجیّ ربما یحکم بہ بقواعد الامزجة و مع ھٰذَا التصریح صرّحوا بانّ ھٰذا الامر المجھول الغیر المستند الی حجة الا الی الطّب علی الظّن الضعیف فی ذٰلک ایضا لیس ممّا فیہ المصلحة دینہ بل الدنیویّةالمحضة لکونہ یسرا مزاجیا لایسرا روحیّا و مفروغ فی الشریعة ان اکثر عسر المزاج یوجب یسر الروح فی عالمہٖ و ھو دارالآخرة و لھذا کانت الشدّة فی