فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 162
نے فرمایا۔وقد اغرب الکیدانی حیث قال والعاشر من المحرّمات الاشارة بالسّبابة کاھل الحدیث ای مثل اشارة جماعة یجمعہم العلم بحدیث رسول اللہ صلعم وھذا منہ خطأ عظیم و جرم جسیم منشأہ للجھل عن قواعد الاصول و مراتب الفروع من المنقول ولولا حسن الظن وتأویل کلامہ بسببہ لکان کفرہ صریحا و ارتدادہ صحیحا فھل لمومن ان یحرم ما ثبت فعلہ صلعم ما کاد ان یکون نقلہ متواترًا و یمنع ما علیہ عامة العلمائ کابر عن کابر والحال ان الامام الاعظم و الھمّام الاقدم قال لایحلّ لاحد ان یاخذ بقولنا مالم یعرف ماخذ من الکتب والسّنة و اجماع الامّة والقیاس الجلیّ فی المسئلة وقال الشافعی اذا صح الحدیث علی خلاف قولی فاضربوا قولی علی الحائط و اعملوا بالحدیث الظاہر الی ان قال مع انہ یکفی فی موجب تکفیر الکیدانی اھانتہ المحدّثین الذین ھم عمدة الدین المفہومة من قولہ کاھل الحدیث المفضیّة الی قلّة الادب المفضی بسوئ الخاتمة لان من المعلوم ان اھل القرآن اھل اللہ و اھل الحدیث اھل رسول اللہ و انشد فی ھذا المعنی شعر اھل الحدیث ھم اھل النبی و ان لم یصحبوا نفسہ انفاسہ صحبوا۔انتہٰی۔کیداؔنی نے انوکھی ہی بات کہی جو کہا نماز کے محرمات سے دسواں حرام سبابہ کا اشارہ ہے۔اہلِ حدیث کی طرح کیا معنے اس جماعت کی طرح جس کو رسول اللہ صلعم کی حدیث نے ایک کیا اور یہ کہنا کیدانی کا بڑی خطا ہے اور بھاری جرم ہے۔اس جرم کا منشا اصول کے قواعد اور منقول کے فروع کے مراتب سے جہالت ہے اگرحسنِ ظن کا حکم نہ ہوتا اور اس کے باعث کیدانیکے کلام میں تاویل نہ کی جاتی تو اس کا کفر صریح اور ارتداد صحیح تھا۔کیا مومن نبی کے اس فعل کو حرام کہہ سکتا ہے جو قریب بتواتر ثابت ہوا اور کیا مومن منع کر سکتا ہے جس پر تمام علماء ہیں۔بڑوں سے بڑے لیتے آئے۔بڑے امام اور اقدام سردار (ابوحنیفہ) نے کہا کسی کو حلال نہیں کہ ہماری بات پر عمل