فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 156
۷۔جواب۔احادیث ذیل میں دیکھو۔مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنْ صَلَاةِ الْغَدَاةَ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَقَدْ أَدْرَكَهَا، وَمَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ فَقَدْ أَدْرَكَهَا، رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ { FR 5312 } اور حدیث صلوٰةُ الـخَوف میں آیا ہے صَلَّى بِهَؤُلَاءِ رَكْعَةً وَبِهَؤُلَاءِ رَكْعَةً وأمثالها۔{ FR 4779 } رکعت سے مراد کیا صرف رکوع بدون القراء ة ہے اور کیا منفرد پر مَنْ اَدْرَکَ کی حدیثیں صادق نہیں اور کیا رسول اللہ صلعم نے امام ہو کر ہر ایک طائفہ کے ساتھ صرف رکوع ہی ادا فرمایا تھا۔ہرگز نہیں ‘ہرگز نہیں۔آثار کا جواب۔اوّل ان آثار کو نقل کرتا ہوں جن سے مدُرکِ رُکوع تارک قراءت کے جواز رکعت کا استدلال پکڑا گیا۔پھر ان کا انشاء اللہ تعالیٰ جواب دوں گا۔پہلا اثر۔ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے۔مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الصَّلَاةِ فَقَدْ أَدْرَكَ۔{ FR 5313 } (جس نے ایک رکعت پا لی اس نے نماز پا لی)اور ابن وہب نے یحییٰ بن حمید سے روایت کیا۔قَبْلَ أَنْ يُّقِيْمَ الْإِمَامُ صُلْبَهٗ۔{ FR 5314 }(امام کے کمر سیدھی کرنے سے پہلے) اور دوسرا ابن وھب سے طحاوی نے بیان کیا دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ أَنَا وَابْنُ مَسْعُودٍ فَأَدْرَكْنَا الْإِمَامَ وَهُوَ رَاكِعٌ فَرَكَعْنَا ثُمَّ مَشَيْنَا حَتَّى اسْتَوَيْنَا فِي الصَّفِّ فَلَمَّا قَضَى الْإِمَامُ الصَّلَاةَ قُمْتُ لِأَقْضِيَ‘ فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: قَدْ أَدْرَكْتَ الصَّلَاةَ۔{ FR 4780 } تیسرا طحاوی سے وَعَنْ طَارِقٍ۔۔۔دَخَلْنَا الْمَسْجِدَ فَرَأَيْنَا النَّاسَ رُكُوعًا فِي مُقَدَّمِ { FN 5312 } جس نے صبح کی نماز کی ایک رکعت سورج طلوع ہونے سے پہلے پا لی، تو اُس نے اسے پالیا۔اور جس نے عصر کی نماز کی ایک رکعت سورج غروب ہونے سے پہلے پا لی تو اُس نے اسے پالیا۔امام بخاریؒ نے اسے روایت کیا ہے۔{ FN 4779 } آپؐ نے ان لوگوں کو ایک رکعت پڑھائی اور دوسرے لوگوں کو ایک رکعت پڑھائی اور اسی طرح کیا۔{ FN 5313 } جس نے نماز کی ایک رکعت پالی تو اُس نے (نماز) پالی۔{ FN 5314 } اس سےپہلے کہ امام اپنی کمر سیدھی کرلے۔{ FN 4780 } (زید بن وہب نے کہا:) میں اور (حضرت عبد اللہ) بن مسعودؓ مسجد میں داخل ہوئے تو ہم نے امام کو رکوع کرتے ہوئے پایا۔ہم نےرکوع کرلیا پھر چلے حتیٰ کہ صف میں جا شامل ہوئے۔جب امام نے نماز مکمل کرلی تو میں اُٹھ کھڑا ہوا تاکہ نماز مکمل کرلوں۔تو حضرت عبد اللہ نے کہا: تم نماز پاچکے ہو۔(شرح معانی الآثار للطحا