فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 145
اعلم اہل زمانہ رفع الیدین حق علی المسلمین بما روی الزہری عن ابیہ۔{ FR 5576 } ۹ جس کی نسبت ابوحمید نے دس صحابیوں میں بیٹھ کر کہا۔أَنَا أَعْلَمُكُمْ بِصَلَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ{ FR 5577 } پھر تفصیل کے وقت رکوع وغیرہ میں رفع یدین کو بیان کیا اور کسی نے انکار نہ کیا ۰جس کے انکار میں عاصم بن کلیب سے نفی کا اثر جناب امیر کی مرفوع اور مثبت حدیث کا مقابل نہیں ہو سکتا ۱ ۱جس کے نہ کرنےپر ابن عمر حصاة مارتے تھے (پس جس نماز میں مجاہد نے ابن عمر کو رفع یدین کرتے نہیں دیکھا۔اس نماز میں ابن عمر نے سہواً ترک کی ہے یا حصین راوی کا وہم ہے جس نے مجاہد سے نقل کیا۔یا مجاہد کا اثر ابوبکر بن عیاش سے معلول ہے)بااینکہ مجاہد خود رفع یدین کرتا تھا ۲ ۱جس کے باعث ابن الزبیر نے کُنَّا لَنُأَ دَّبُ عَلَیْہِ وَ نَحْنُ غِلْمَانٌ۔{ FR 5578 } کہہ کر عبد اللہ بن عامر کو (اس شخص نے اپنے بھائی کو رفع یدین کرنے پر پیٹا تھا) اپنے مکان پر آنے کی اجازت نہ دی۔میں کہتا ہوں ایسوں کا بیج آج درخت ہو گیا۔و الی اللہ المشتکی۔جس ۳ا کی نسبت عاصم کی روایت میں اگرچہ ابن مسعود سے کبر فی الاولی ثم لم یعد { FR 5264 } مروی ہے اِلاَّ امام احمد نے یحییٰ سے سنا کہ عبد اللہ بن ادریس کی کتاب میں جو عاصم سے مروی تھی دیکھا تو اس میں ثم لم یعد کا لفظ نہ پایا والکتاب احفظ { FR 5265 } جس کی نفی پراگر براء کی روایت ہے تو اس کے راوی کو لقنوہ ثم لم یعد فقال ثم لم یعد { FR 5266 } کا واقعی الزام دیا گیا جس ۴ ۱کے بارے جابربن سمرہ کی حدیث سے { FN 5576 } علی المدینی جو کہ اپنے زمانہ کے بڑے عالم تھے کہتے ہیں کہ زُہری نے اپنے والد سے روایت کی ہے جس کے مطابق رفع یدین کرنا مسلمانوں پر ایک حق ہے۔{ FN 5577 } تم میں سے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کو زیادہ جاننے والا ہوں۔{ FN 5578 } جب ہم لڑکے تھے تو اس (بات) پر ہماری سرزنش کی جاتی تھی۔{ FN 5264 } آغاز میں تکبیر کہی پھر (رفع یدین کو) نہیں دُہرایا۔{ FN 5265 } اور کتاب زیادہ محفوظ ہے۔{ FN 5266 } لوگوں نے اس کے ذہن میں یہ بات ڈال دی کہ ’’پھر آپؐ نے دوبارہ نہیں کیا۔‘‘ تو اُس نے کہا: ’’پھر آپؐ نے دوبارہ نہیں کیا۔‘‘ (قرة العينين برفع اليدين في الصلاة للبخاري روایت نمبر۳۳)