فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 144
دوسری بار صریح صلوٰة کا لفظ موجود ہے۔پس دو رکعت کا لایصلی صلوٰة میں مراد ہونا بباعث تکرار لفظ ہے۔دیکھو لایصلی کے لفظ میں ایک رکعت کی پڑھنے میں بھی حانث ہوجاتا ہے۔اور حدیث لا صلوٰة میں تو ایک ہی لفظ ہے۔جواب۶۔صفت کمال کا ایزاد آپ کے یہاں مشعر اس بات کا ہے کہ ایک رکعت بھی نماز ہوتی ہے دیکھو جو اپنے لفظ خداج میں تاویلیں کی ہیں۔جواب۷۔کسی نمازی کی نماز کا جواز یا عدم جواز کمال یا عدم کمال آپ کے یا ہمارے کہنے پر موقوف نہیں۔یہ شارع کا عہدہ ہے۔دیکھو چار رکعت کی نماز بدوں قراءت فاتحہ یا بترک فاتحہ اُخریین ہیں اور بدوں طمانینت رکوع اور سجود بلکہ بدوں لفظ اللہ اکبر اور سلام آپ کے نزدیک جائز ہے اور حسبِ احادیث صحیحہ وہ جائز نہیں اور جس متیمم نے ایک ہی ضرب سے تیمم کیااور اس نے ایک ہی ضرب سے مونہہ اور پہنچوں تک ہاتھوں پر بدوں استیعاب مسح کیا اور وتر کی ایک ہی رکعت پڑھ لی اور اس میں طمانینت سے قیام اور رکوع اور سجود اور قومہ اور جلسہ بین السجدتین کیا اور فاتحہ پڑھی۔سور ة کا ضم کیا بلکہ اس رکعت میں رکو ع کو جاتے اور اس سے سراٹھاتے وقت رفع یدین کی وہ سنت بھی ادا کر لی جس کے ۱ حق میں مع اس رفع کے جو رکعت ثالثہ کے ابتدا کی جاتی ہے۔صدہا اخبار اور آثار صحیحہ وارد ہو چکے ہیں۔۲ جس کا کرنا تا آخر روز رحلت جناب رسالت مآب سے ثابت ہے۔۳جس کے راوی صحابہ ہیں۔سترہ اور بیس ہی نہیں بلکہ پچاس تک پہنچ چکے ہیں ۴ جس کے اثبات پر دراسات کے نہایت لطیف فقرے راحت بخش ہیں۔۵ جس کے اثبات میں امیرالمومنین امام بخاری نے ایک کتاب ہی لکھ دی (دہلی میں معہ ترجمہ چھپی ہے) جس۶ کا معارض کوئی نہیں۔۷ جس کی نسبت بخاری نے کہا ہے۔لَمْ يَثْبُتْ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ عَنْ أَحَدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهٗ لَمْ يَرْفَعْ يَدَيْهِ۔{ FR 5575 } جس۸کی نسبت بخاری نے کہا ہے۔قال علی المدینی وکان { FN 5575 } اہل علم کے نزدیک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے کسی ایک سے بھی ثابت نہیں ہے کہ اُس نے رفع یدین نہیں کیا۔(قرّة العينين برفع اليدين في الصلاة للبخاري)