فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 133
لِعُمُوْمِ اللَّفْظِ { FR 5217 } کے ساتھ ملاویں تو حسب امر آیت فَاقْرَؤُوْا مَاتَیَسَّرَ مطلق قراءت کی فرضیت ثابت ہوتی ہے مکلّف کو اختیار ہے کسی وقت پڑھ لے بلکہ اگر بخلاف اَلْعِبْرَةُ لِعُمُوْمِ اللَّفْظِ فَاقْرَؤُوْا کے ساتھ فِی الصَّلوٰةِ کی قید بھی آیت میں لگادیویں تو پہلی رکعت کی تخصیص پر بھی نہیں نکلتی جب حکم قراءت اصل میں ہی ثابت نہ ہوا تو فروع میں کیونکر ثابت ہو گا۔قولہ۔لِاَنَّـہُمَا مُتَشَاکِلَانِ۔{ FR 5220 } فقیر۔اگر تشاکل موجب فرضیت ہے تو نفس فرضیت میں سب رکعتیں متساوی ہیں اور قیام رکوع سجود جیسے رکنوں میں بھی سب رکعتیں متساوی ہیں پس حسبِ قیاس یا استدلال جناب بھی سب رکعتوں میں قراءت فرض ہونی چاہیے۔یاد رہے میں نے یہاں تَشَاکُلْ فِی الْقِرَائَةِ { FR 5221 } اور تَشَاکُل فِی السُّقُوْطِ وَ الْوُجُوْبِ { FR 5222 } سے اس لئے قطع نظر کر لی ہے کہ نفس قراءت کی فرضیت اور عدم فرضیت دوسری رکعت میں تشاکل سے پہلے ثابت نہیں پس صفت قراءت اور قدر قراءت سے تشاکل ماننا صحیح نہ ہو گااور تَشَاکُلْ فِی الْوُجُوْبِ وَ السُّقُوْطِ کا یہ حال ہے کہ وتروں میں اگر کوئی ایک ہی رکعت پر اکتفا کرے تو اس پر دوسری رکعت کا پڑھنا واجب اور فرض نہیں دوسری رکعت پڑھنی عند اللہ ساقط ہو جاتی ہے پس پہلی اور دوسری میں بھی بلحاظ وجوب اور سقوط تشاکل نہ رہا۔فَالتَّفْرِقَةُ بِالثَّنَاءِ وَ التَّعَوُّذِ وَ التَّکْبِیْرِ وَالْبَسْمَلَةِ کَمَا قُلْتُمْ بَلِ التَّفْرِقَةُ بِالسُّقُوْطِ وَالْوُجُوْبِ بَعْدَ الْاِتِّـحَادِ فِی الرُّکْنِیَّةِ لَایَضُرُّ { FR 5223 } اور اور ثلاثی نماز میں تو اتحاد فی السقوط { FN 5217 } نصیحت لفظ کے عموم سے ہوتی ہے { FN 5220 } کیونکہ یہ دونوں ایک دوسرے سے مماثلت رکھتی ہیں۔{ FN 5221 } قراءت کرنے کی مماثلت { FN 5222 } ساقط اور واجب ہونے کی مماثلت { FN 5223 } جیسا کہ تم نے کہا (کہ مماثلت ہے) تو ثناء، تعوذ، تکبیر (تحریمہ) اور بسم اللہ پڑھنے کے فرق کا کیا معاملہ ہے؟ بلکہ (حقیقت تو یہ ہے کہ) رُکنیتِ صلوٰۃ ہونے میں مشترک ہونے کے بعد ساقط اور واجب ہونے کا فرق کوئی نقصان نہیں پہنچاتا۔