فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 152 of 200

فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 152

عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُ (قَالَ الْبُخَارِيُّ) وَلَيْسَ فِيْ جَوَابِهٖ أَنَّهُ اعْتَدَّ بِالرُّكُوْعِ عَنِ الْقِيَامِ۔{ FR 4777 }؂ ۲جواب۔کہاں لکھا ہے کہ ابوبکرہ نے بدون القراءة یا قبل القراء ة رکوع کیا تھا اگر کہو اس روایت میں قراءت کا ذکر نہیں اور عدم ذکر قراءت سے عدم قراءت لیتے ہیں تو اس کا جواب ہے کہ اس ابوبکرہ کی حدیث میں تکبیر تحریمہ کہنے اور ابوبکرہ کے وضو کرنے کا بھی ذکر نہیں پس اس کا بھی انکار کردو۔اور اگر کسی جگہ وضو اور تکبیر کا ثبوت ہے تو کسی ایسی ہی جگہ قراءت کا بھی ثبوت ہے۔اگر فَرَکَعَ کی فَاسے عدم قراءت آپ لوگوں نے سمجھا ہے تو نحو کی کتابوں میں فا کی بحث دیکھو اور ان امثلہ پر غور کرو۔زَوَّجَ زَیْدٌ فَوَلَدَلَہٗ { FR 5292 }؂ اور دَخَلْتُ مَکَّةَ فَمَدِیْنَةَ۔{ FR 5293 }؂ اور آیت اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً ا۔فَتُصْبِحُ الْاَرْضُ مُخْضَرَّةً۔{ FR 5294 }؂ اور آیت شریفہ۔ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً۔{ FR 5295 }؂ ان جملوں کی فائوں کو دیکھ کر سوچو کہ زید کے بیاہ کرنے پس بچہ پیدا ہونے میں کوئی فاصلہ ہوتا ہے یا نہیں ایسے ہی مکہ میں داخل ہونے پھر مدینہ کے داخل ہونے میں اور مینہ کے بادلوں سے اترآنے اور زمین کے سبزہ زار ہونے میں اور عَلقہ کے مُضغہ ہونے میں اگر ان جگہوں میں فاء فصل کے مانع نہیں تو ابوبکرہ کی حدیث فَانْتَہَیٰ فَرَکَعَ میں فصل (تکبیر اور فاتحہ پڑھنے کا فصل) کا کون مانع۔۳۔جواب۔کہاں ثابت ہوا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اعادہ یاقضا کا حکم نہیں دیا۔{ FN 4777 }؂ میری جان آپ کے جواب پر قربان، کیا ہی خوبصورت اور کیا ہی پیارا (جواب) ہے۔امام بخاریؒ نے کہا: کسی کے لیے جائز نہیں کہ وہ اس (کام) کی طرف لَوٹے، جس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہو۔(امام بخاریؒ نے کہا:) اور آپؐ کے جواب میں یہ بات نہیں ہے کہ آپؐ نے قیام کے بغیر ہی رکوع کو شمار کر لیا تھا۔(القراءة خلف الإمام للبخاري، بَابُ هَلْ يُقْرَأُ بِأَكْثَرَ مِنْ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ خَلْفَ الْإِمَامِ) { FN 5292 }؂ زید نے شادی کی پھر اس کے ہاں اولاد ہوئی۔{ FN 5293 }؂ میں مکہ میں داخل ہوا، پھر مدینہ (گیا) { FN 5294 }؂ کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ آسمان سے پانی اُتارتاہے، پھر زمین سرسبز ہوجاتی ہے۔{ FN 5295 }؂ پھر بنایا ہم نےاُس سیال کو بستہ خون ‘ پھر بنایا بستہ خون کو گوشت کا ٹکڑا۔