فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 8
شارع شرعیات کی تعریف کرتا ہے نہ امور لغویہ کی اور مرکب جیسے کل اجزاء کے انتفاء سے منتفی ہوتا ہے ویسے ہی بعض اجزاء کے انتفاء سے بھی منتفی ہو جاتا ہے۔پس جیسے کسی شخص نے نماز کے کل ارکان ادا نہ کئے اس کی نماز نہیں ہوتی ویسے ہی جس شخص نے ایک رکن اس کا مثلاً رکوع یا سجدہ یا قراء ت فاتحہ ترک کیا اس کی نماز نہ ہوگی۔صحت یا کمال کی تقدیر پر کس نے مجبور کیا اور اگر اس نفی کو کسی صفت کی طرف راجع کریں تو صحت ِ صلوٰ ة بھی ایک صفت ِنماز ہے اور بہ نسبت صفتِ کمال کے حقیقت سے بہت قریب ہے اس لئے اگر صفت کی نفی کریں گے تو اقرب مجازَین میں سے صفت صحت کو لیں گےاور کہیں گے کہ حسبِ اقتضاء ان احادیث کے تارکِ فاتحة الکتاب کی نماز صحیح نہ ہوئی۔اور جب ہم سے کوئی سوال کرے گا کہفاتحة الکتاب کے سوا نماز صحیح ہے یا نہیں تو حسبِ روایت بخاری و دارقطنی وغیرہ اس کو جواب دیں گے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم فرماتے ہیں کہ فاتحة الکتاب کے سوا نماز جائز نہیں یا کہیں گے نہیں ہوتی۔آپ پر تعجب ہے آپ فرماتے ہیں فاتحة الکتاب کی خصوصیت نہیں اس کے سوا بھی نماز ہو جاتی ہے۔بَیت تو و شمشادِ ما و قامت یار فکر ہر کس بقدر ہمت اوست اور عموم ان احادیث سے صاف واضح ہے کہ فاتحہ کا پڑھنا ہر نمازی کے واسطے فرض ہےخواہ امام ہو خواہ مقتدی خواہ منفرد۔اب ہمیں خاص مقتدی کے واسطے فاتحہ الکتاب پڑھنے کی ضرورت پر دلیل بیان کرنے کی حاجت نہیں رہی اِلاَّ بغرض مزید اِیضاَح احادیث ذیل کو بیان کرتے ہیں ملاحظہ فرمائیے۔(۱) مسلم میں ہے۔حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيْمَ الْحَنْظَلِيُّ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْـمٰنِ عَنْ أَبِيْهِ عَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ صَلَّى صَلَاةً لَمْ يَقْرَأْ فِيْهَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَهِيَ خِدَاجٌ ثَلَاثًا غَيْرُ تَـمَامٍ۔فَقِيْلَ لِأَبِيْ هُرَيْرَةَ إِنَّا نَكُوْنُ وَرَآءَ الْإِمَامِ؟ فَقَالَ اقْرَأْ بِهَا فِيْ نَفْسِكَ فَإِنِّيْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: