فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 114
ابن ھمام اور وجوہ ِمرقومة الصدر کے سوا ئے حسب ِقول ابن ھمام (حَيْثُ قَالَ:) يُحْمَلُ۔۔۔ثُمَّ اقْرَأْ مَا تَيَسَّرَ مَعَكَ … عَلَى غَيْرِ حَالَةِ الِاقْتِدَاءِ جَمْعًا بَيْنَ الْأَدِلَّةِ { FR 5561 } ہم کہتے ہیں مَا تَیَسَّرَ مَعَکَ اور لَہٗ قِرَاءَةٌ اور إِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوْا کُلٌّ فِیْ سوی الفاتحة جمعًا بین الادلّة{ FR 5562 }۔یاد رہے ابن الھمّام نے ان دونوں حدیثوں کی نسبت کہا ہے۔الاوّل صحیح علٰی شرط الشیخین و الثانی علٰی شرط مسلم{ FR 5563 } حالانکہ بخاری اور مسلم نے اپنے شروط کی کہیں تصریح نہیں کی۔ان کی تفضیل تلقی الامة بالقبول { FR 5564 }ہے جو کسی کتاب کو بعد کتاب اللہ صحیحین کے ماوراء حاصل نہیں۔(امداد) صحیحین کے مطاعن دیکھنے ہوں تو دیکھو شیعہ اثنا عشریہ کی کتابوں میں بہت لکھے ہیں اور یہ میرا کلام صرف اس لئے ہے کہ مولوی صاحب مخاطب خاص صحیحین کی عظمت کے قائل نہیں اور منازعہ اور مخالجہ اور مخالطہ کی حدیثیںجہری قراءت کی مانع ہیں نہ آہستہ پڑھنے کی اور لَاتَفْعَلُوْا کی حدیث سے بالتصریح فاتحہ مستثنیٰ ہے۔اِلَّاوَرَاءَ الامام کی حدیث میں استثنا کا اشارہ عبارت کا معارض نہیں ہو سکتا۔اور اَدِلّہ مثبتہ قراءت فاتحہ‘ قراءت فاتحہ پر نصّ ہیں اور منع کے ادِلّہ سے بالتصریح فاتحہ کی ممانعت نہیں نکلتی اور آثار میں آثارِ َمنع ثابت نہیں بہ تسلیم محال مرفوع مثبت کے مقابل حجت نہیں بامنازعت اور مخالجت اور مخالطت کے مانع ہیں۔۳جواب۔حسب تحقیق سابق جب تعارض نہیں تو مسئلہ منصوص ہو گیا اور قیاس بمقابلہ نص حجت نہیں۔{ FN 5561 } (جہاں انہوں نے یہ کہا ہے کہ) دلائل کی مجموعی صورت میں (قول) ’’پھر …… جو تمہیں میسر ہو پڑھو‘‘ عدمِ اقتداء کی حالت پر (یعنی انفرادی نماز پر) محمول کیا جائے گا۔(فتح القدیر لابن ھمام، کتاب الصلاة، باب صفة الصلاة، فصل فی القراءة) { FN 5562 } ’’جو تمہیں میسر ہو (پڑھو)‘‘ اور ’’(امام کی قراءت ہی) اس کی قراءت ہے‘‘ اور ’’جب (امام) قراءت کرے تو خاموش رہو۔‘‘ یہ سب (احادیث) دلائل کی مجموعی صورت میں سورۂ فاتحہ (کی قراءت) کے علاوہ ہیں۔{ FN 5563 } پہلی (روایت) شیخین یعنی بخاری اور مسلم کی شرائط کے مطابق صحیح ہے اور دوسری (روایت) مسلم کی شرائط کے مطابق ہے۔{ FN 5564 } امت کے قبول کرلینے سے ہے۔