فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 115
۴جواب۔مُدرکِ رکوع تارکِ قراءت کے اعتداد رکعت کا مسئلہ متنازع فیھا ہے اجماعی نہیں اور مولوی عبد الحی سَلَّمَہٗ رَبُّہٗ کا فرمانا۔اِلَّا ان یّقال انّ الخلا ف ثابت بعد عصر الصحابة وھم متّفقون علٰی ذٰلک و لم ینقل منھم مایدلّ علٰی خلافہ { FR 5157 } صحیح نہیں جیسے بیان ہو گا انشاء اللہ تعالیٰ اور مولوی صاحب کا اِلَّا اَنْ یُّقَالَ جیسا لفظ خود مومی ہے۔۵ جواب۔تکبیر اور قیام بقدر طمانینت اَمْرَین غَیرمُـمْتَدَّ ین کا عدم سقوط عند الضرورت مستلزم عدم سقوط قراءت جیسے فعل ممتد کا نہیں کیونکہ قراءت فاتحہ میں رکعت کے فوت ہونے کا ڈر ہے بخلاف تکبیر اور قیام۔۶جواب۔بعض فرض بھی ضرور ت کے وقت ساقط ہو جاتے ہیں دیکھو قیام عند العجر اور رکوع اور سجود عند العجز۔۷جواب۔سقوط عند الضرورة مستلزم عدم فرضیت نہیں۔یہ کئی جواب مولوی عبد الحی صاحب کے امام الکلام سے لئے گئے۔دوسری وجہ قراءت خلف الامام کے مخالف عقل ہونے کی جمہور علماء کے نزدیک مطلق خطبہ کا سننا کتاب و سنت سے واجب ہے۔یہی مذہب ہے امام ابوحنیفہ اور امام مالک اور امام شافعی کا۔اور قرآن کا سننا خواہ مخواہ خطبہ سے کم نہ ہو گا۔لِاِشْتِرَاکِ الْعِلَّةِ۔پہلا جواب۔اہلِ حدیث کے نزدیک خطبہ کی حالت میں رَکْعَتَیْنِ خَفِیْفَتَیْنِ کا پڑھ لینا جائز ہے۔استماع خطبہ ان کا مانع نہیں کیونکہ رَکْعَتَیْن کا حکم ہے ایسے ہی استماعِ قرآن قراءتِ فاتحہ کا مانع نہ ہوگا۔لِاِشْتِرَاکِ الْعِلَّةِ وَ ھِیَ الْاَمْرُ بِـھَا{ FR 5158 }۔{ FN 5157 } سوائے اس کے کہ یہ کہا جائے کہ اختلاف صحابہ کرام ؓکے زمانہ کے بعد سے ثابت ہے اور وہ (یعنی صحابہؓ) اس پر متفق تھے۔اور اُن سے ایسی کوئی بات نقل نہیں کی گئی جو اس کے خلاف دلالت کرے۔{ FN 5158 } قدرِ مشترک ہونے کی وجہ سے اور اس کے متعلق یہی حکم ہے۔