فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 91 of 200

فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 91

نہیں کہہ سکتے کہ اکثر صحابہ سے قراءت خلف الامام ثابت ہے۔وَيَجُوْزُ أَنْ يَّكُوْنَ رُجُوْعُ الْمُخَالِفِ ثَابِتًا فَتَمَّ الْإِجْمَاعُ مَعَنَا عَلٰی مِثْلِ مَا قُلْتَ۔{ FR 5082 }؂ بااینکہ قراءت فاتحہ اور مطل قراءت میں فرق ہے۔قَالَ الْعَیْنِیُّ: وفي حديث عبادة محمد بن إسحاق بن يسار وهو مدلّس۔قال النووي: ليس فيه إلا التد ليس، قلنا: المد لّس إذا قال عن فلان لا يحتج بحديثه عند جميع المحدثين، مع أنه قد كذ به مالك وضعفه أحمد وقال: لا يصح الحديث عنه۔وقال أبو زرعة الرازي: لا يقضى له بشيء۔انتہٰی۔{ FR 4673 }؂ فقیر عرض کرتا ہے۔عینی صاحب بھلا اور تو اور آپ نے ابودائود بھی نہ دیکھا ہو۔واللہ عقل میں نہیں آتا۔اس شخصی تقلید کا ستیاناس ہو۔اس نے آنکھ پر پٹی باندھ دی۔صاحب: عبادہ کی حدیث کو ابودائود نے زیدبن واقد سے اور اس نے مکحول سے اور سعید بن عبد العزیز اور عبد اللہ بن علا اور ابن جابر نے مکحول سے روایت کیا ہے۔مردِ خدا ابن اسحاق کی روایت تجھے نظر پڑی اور اسی روایت کے ساتھ زید اور سعید اور عبد اللہ اور ابن جابر کی حدیثیں جو ابوداؤد میں ابن اسحاق کے سوائے موجود تھیں نظر نہ آئیں معلوم ہوتا ہے۔بحت اللہ کے واسطے احادیث کو نہیں دیکھا۔صرف حمایت کا خیال تھا۔جہاں موقع ملا اور اعتراض کی جگہ پائی اسی کو دیکھا۔اگر ہم مان لیں کہ { FN 5082 }؂ ممکن ہے کہ (اس معاملہ میں) مخالف کا رجوع ثابت ہوجائے اور تمہارے کہنے کی طرح ہی ہمارے ساتھ اجماع مکمل ہوجائے۔{ FN 4673 } ؂ (علاّمہ عینی نے کہا:) اور عبادہ کی روایت میں محمد بن اسحاق بن یسار (راوی) ہے جو مدلّس ہے۔نوویؒ نے کہا: اس میں تدلیس کے سوا کچھ نہیں۔ہم نے کہا: مدلّس(راوی) جب کہے: ’’فلاں سے روایت ہے‘‘ تو تمام محدثین کے نزدیک اس کی روایت حجت نہیں ہوتی۔اس کے ساتھ یہ بھی ہے کہ امام مالکؒ نے اسے جھوٹا قرار دیا ہے اور امام احمد (بن حنبلؒ) نے اسے ضعیف کہا ہے۔اور انہوں نے کہا: اس کی حدیث صحیح نہیں ہے۔اور ابوزرعہ رازی نے کہا: اس (کی روایت) سے کسی بات کا فیصلہ نہیں ہوسکتا۔(البناية شرح الهداية للعینی، کتاب الصلاة، باب فی صفة الصلاة، أدنى ما يجزئ من القراءة في الصلاة، قراءة المؤتم خلف الإمام)