فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 87 of 200

فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 87

فقیر کہتا ہے۔عینی خطبہ کتاب میں فرما چکے ہیں۔ان بعضھم ذکر فی معرض الاستدلال فی الفصول اخبارًا لیس لھا اصل فی الاصول و ہل ہذا الا کذب علی الرسول صلی اللہ علیہ و سلم و قد روینا من طریق البخاری وغیرہ عن انس ؓ قال قال النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ تَعَمَّدَ عَلَيَّ كَذِبًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ، ثم قال ہذا حدیث متواتر مقطوع بہ رواه مائتان من الصحابہ انتہٰی۔{ FR 4669 }؂ اور یہاں اگر تقلید نے سب کچھ بھلا دیا عینی یا ان کے حمائتی فرماویں یہاں میںنے خود ہی بعض کا طرز اختیار کیا جس پر اعتراض کیا تھا۔اس سند یوتی کے اخبار کا اصول میں کہاں اثر ہے۔سند یوتی تو محدثین کے نزدیک بڑا مجروہ شخص ہے۔سند یوتی کی یہ روایت کذب بحت ہے۔دیکھو آثار میں بخاری کے اقول جناب عمر اور مرتضیٰ اور عبادة ‘ابن عمر‘ ابن مسعود‘ ابن الزبیر سے قراءت خلف الامام کیسے ثابت ہے۔علاوہ بریں اَلْقِرَاءَ ةُ یہاں بھی معرفہ ہے۔سند لیوتی کے ثقاہت رجال جرح و تعدیل سے ثابت کیجیے اور اس کی روایت کا مخرج بتائیے اور اس کی سند بیان کیجیے تو کہ اس پر غور کا موقع ملے۔(قَالَ الْعَیْنِیُّ:) ثَبَتَ (الْإجْـمَاعُ) بِنَقْلِ الْآحَادِ۔{ FR 5075 }؂ فقیر عرض کرتا ہے۔عینیؔ‘ شافعیؔ اور عمروؔ مرتضیٰ ؔاور ابوہرؔیرہ ‘عبادہؔ وغیرہ رضوان اللہ علیہم کا { FN 4669 }؂ ’’الفصول‘‘ میں بعض نے استدلال کرتے ہوئے ایسی روایات بھی بیان کی ہیں جن کی اصول میں کچھ بھی حقیقت نہیں اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر محض کذب بیانی ہے۔اور ہم نے امام بخاریؒ وغیرہ کے واسطے سے حضرت انسؓ کی روایت بیان کی ہے۔انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے ارادۃً مجھ پر جھوٹ باندھا تو چاہیئے کہ وہ آگ میں اپنا ٹھکانہ بنالے۔پھر انہوں نے کہا: یہ حدیث متواترِ قطعی ہے۔اسے دو سو صحابہ کرام نے روایت کیا ہے۔{ FN 5075 }؂ یہ اجماع آحاد روایات کے نقل کرنے سے ثابت ہوا ہے۔(البناية شرح الهداية للعینی، کتاب الصلاة، باب فی صفة الصلاة، أدنى ما يجزئ من القراءة في الصلاة، قراءة المؤتم خلف الإمام، جزء۲ صفحہ۳۱۸)