فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 77 of 200

فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 77

کیا۔أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ فِيْ كُلِّ الصَّلَاةِ قُرْآنٌ؟ قَالَ نَعَمْ فَقَالَ رَجُلٌ مِّنَ الْأَنْصَارِ وَجَبَتْ قَالَ وَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ أَرَى أَنَّ الْإِمَامَ إِذَا أَمَّ الْقَوْمَ فَقَدْ كَفَاهُمْ۔{ FR 5558 }؂ یہ آٹھ نو آثار ہیں جو اس مسئلہ میں زیادہ تر مشہور ہیں۔وعید کے آثار ہم نے علیحدہ رکھے ہیں وہ اس کے بعد ذکر ہوں گے اگر بفرض محال اور آثار کا وجود ہم مان لیں گے تو ان آثار کے حالات اور جوابات پر ان کے حالات اور جوابات کو قیاس کر لینا۔۱پہلا اثر جناب عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ہے۔بخاری نے کہا ہے وَيُرْوَى عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، وَهُوَ مُنْقَطِعٌ لَا يُثْبَتُ وَيُرْوَى عَنِ الْأَشْعَرِيِّ عَنْ عُمَرَ أَنَّهٗ أَعَادَ۔{ FR 4663 }؂ اور علی۲ مرتضیٰ کا اثر دارقطنی نے بیان کیا اور زیلعی حنفی نے کہا ہے رَوَاهُ ابْنُ أَبِيْ شَيْبَةَ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ … وَقَالَ (الدَّارَقُطْنِيُّ): لَا يَصِحُّ وَقَالَ ابْنُ حَبَّانَ … بَاطِلٌ وَيَكْفِيْ فِيْ بُطْلَانِهٖ إجْمَاعُ الْمُسْلِمِينَ عَلٰى خَلَافِهٖ۔۔۔۔… وَابْنُ أَبِي لَيْلَى … مَجْهُولٌ۔{ FR 4664 } ؂ اور امام بخاری نے فرمایا ہے اس کا راوی مختار معلوم نہیں ہوتا کون ہے اور معلوم نہیں ہوتاکہ اس نے اپنے باپ سے سنا یا نہ اور اس کے باپ نے علی مرتضیٰ ؓ سے سنا ہے یا { FN 5558 }؂ کہ ایک شخص نے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا ہر نماز میں قرآن (کی قراءت) ہے؟ آپؐ نے فرمایا: ہاں۔پھر انصار میں سے ایک شخص نے کہا: یہ (قراءت تو) واجب ہوگئی۔راوی نے بیان کیا کہ حضرت ابودرداءؓ نے کہا: میرا خیال ہے کہ امام جب لوگوں کی امامت کرواتا ہے تو (اُس کا پڑھنا) اُن کے لیے کافی ہوجاتا ہے۔(شرح معاني الآثار، کتاب الصلاة، باب القراءة خلف الإمام) { FN 4663 } ؂ ابوسلمہ سے بیان کیا جاتا ہے۔اور یہ (روایت) منقطع ہے ثابت نہیں ہوتی۔اور اشعری کی حضرت عمرؓ سے روایت بیان کی جاتی ہے کہ انہوں نے (نماز) دُہرائی تھی۔(القراءة خلف الإمام للبخاري، بَابُ هَلْ يُقْرَأُ بِأَكْثَرَ مِنْ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ خَلْفَ الْإِمَامِ، صفحہ۵۸) ؂ ابن ابی شیبہ اور عبد الرزاق نے اسے روایت کیا۔اور دارقطنی نے کہا: اس کی سند صحیح نہیں۔اور ابن حَبَّان نے کہا: (یہ سند) باطل ہے، اور اس کے خلاف مسلمانوں کا اِجماع ہونا ہی اس کے باطل ہونے پر کافی دلیل ہے۔اور (عبد اللہ) بن ابی لیلیٰ مجہول ہے۔(نصب الراية، کتاب الصلاة، فصل فی القراءة فتح القدیر شرح الھدایة لابن الھمام، کتاب الصلاة، باب صفة الصلاة، فصل فی القراءة)