فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 75 of 200

فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 75

پہلا۔بخاری نے ابوسلمہ سے یُرْوٰی کے لفظ سے بیان کیا۔صَلَّى عُمَرُ ۲ وَلَمْ يَقْرَأْ فَلَمْ يَعُدْهُ۔{ FR 4997 }؂ دار۲قطنی نے اور بخاری نے علی مرتضیٰ ؓ سے روایت کیا مختار ابن عبد اللہ ابولیلیٰ کے واسطے سے اور اس نے اپنے باپ سے اور اس نے علی مرتضیؓ سے۔مَنْ قَرَأَ خَلْفَ الْإِمَامِ فَقَدْ أَخْطَأَ الْفِطْرَةَ اور ابن ابی شیبة نے جا۳بر سےقَالَ لَا يُقْرَأُ خَلْفَ الْإِمَامِ، لَا إِنْ جَھَرَ وَلَا إِنْ أَسَرَّ، مَنْ صَلَّى رَكْعَةً لَمْ يَقْرَأْ فِيْهَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَلَمْ يُصَلِّ إِلَّا أَنْ يَّكُونَ وَرَاءَ الإِمَامِ، قَالَ التِّرْمُذِيُّ هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ۔{ FR 4605 }؂ ۴۔عبد بن حمید اور ابن جریر اور ابن ابی حاتم اور ابوشیخ نے جیسے سیوطی نے۔درِّمنثور میں ہے کہاہے۔ابن مسعود نے اپنے اصحاب کے ساتھ نماز پڑھی۔فَسَمِــعَ نَاسًا يَقْرَؤُوْنَ خَلْفَهُ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: أما آن لكم أَن تفهموا أما آن لكم أَن تعقلوا {وَإِذا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ وَأَنْصِتُوْا} كَمَا أَمَرَكُمُ اللهُ۔{ FR 5042 }؂ ابن۵ عمر سے مالک نے مؤطا میں کہا عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهٗ كَانَ إِذَا { FN 4997 }؂ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھی اور قراءت نہیں کی۔پھر آپؓ نے اس (نماز) کو نہیں دُہرایا۔(القراءة خلف الإمام للبخاري، بَابُ هَلْ يُقْرَأُ بِأَكْثَرَ مِنْ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ خَلْفَ الْإِمَامِ، صفحہ۵۸) { FN 4605 } ؂ جس نے امام کے پیچھے قراءت کی اس نے فطرت کی خلاف ورزی کی۔ابن ابی شیبہ نے جابر سے کہا۔امام کے پیچھے قراءت نہ کی جائے، اگر وہ (نماز) جہراً پڑھے تو بھی نہیں اور اگر وہ سِرًّا پڑھے تو بھی نہیں۔جس (شخص) نے ایک رکعت (ایسے) پڑھی کہ اُس میں اُمّ القرآن (یعنی سورۂ فاتحہ) نہ پڑھی تو اُس نے نماز ہی نہیں پڑھی، سوائے اس کے کہ وہ امام کے پیچھے ہو۔امام ترمذیؒ نے کہا: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔(القراءة خلف الإمام للبخاري، بَابُ وُجُوبِ الْقِرَاءَةِ لِلْإِمَامِ وَالْمَأْمُومِ - صفحہ ۱۳) (سنن الدار قطني، کتاب الصلاۃ، بَابُ ذِكْرِ قَوْلِهٖ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ كَانَ لَهٗ إِمَامٌ فَقِرَاءَةُ الْإِمَامِ لَهٗ قِرَاءَةٌ ) { FN 5042 }؂ پھر انہوں نے کچھ لوگوں کو اپنے پیچھے قراءت کرتے ہوئے سنا۔جب وہ (نماز سے) فارغ ہوئے تو فرمایا: کیا تم پر (ابھی) وقت نہیں آیا کہ سمجھو، کیا تم پر (ابھی) وقت نہیں آیا کہ عقل سے کام لو۔یعنی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں حکم دیا ہے کہ جب قرآن پڑھا جائے تو اسے غور سے سنو اور خاموشی اختیار کرو۔(الدرّ المنثور، تفسیر سورة الأعراف، آیت: وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ وَأَنْصِتُوا)