فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 74
وَالْعَصْرِ، فَقَالَ: كَانَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ يَقْرَأُ فَقُلْتُ: أَيُّ ذَالِكَ أَحَبُّ إِلَيْكَ؟ فَقَالَ: أَنْ تَقْرَأَ "۔انتہٰی۔{ FR 4996 } یہاں مَالَااُحْصٰی مِنَ التَّابِعِیْنَ وَ اَہْلِ الْعِلْمِ اور اپنے اجماع کا موازنہ فرمائیے اور آیت شریفہ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِيْنُ اور اِنَّ بَطْشَ رَبِّكَ لَشَدِيْدٌ کا اس وقت تدبر کیجیے۔آپ کے صاحبِ کافی کا قول بھی ان آثار سے کذب بحث ثابت ہو گیا۔جس میں وہ فرماتے ہیں۔مِنْھُمُ الْمُرْتَضٰیؓ۔کیونکہ مرتضیٰ ؓ کا خلف الامام قراءت پڑھنا ثابت ہے۔مولوی صاحب۔آپ کے بھائی بندوں نے منع آثار کے اکٹھے کرنے میں بڑا زور مارا ہے۔آپ کو محدّثین اور فقہا کے بیان کئے ہوئے آثار میں جستجو کرنے کی سبکدوشی کے واسطے فقیر ہی عرض کرتا ہے۔{ FN 4996 } اور حضرت عمر بن خطابؓ نے کہا: امام کے پیچھے (بھی) قراءت کرو۔(راوی نے کہا:) میں نے عرض کیا: اور اگر آپؐ قراءت کررہے ہوں؟ انہوں نے فرمایا: ہاں اگر میں بھی قراءت کررہا ہوں۔اور حضرت اُبَيّ بن کعب، حضرت حذیفہ بن یمان، حضرت عبادہ رضی اللہ عنہم نے بھی ایسا ہی کہا۔اور حضرت علی بن ابی طالبؓ، حضرت عبد اللہ بن عمروؓ، حضرت ابوسعید خدریؓ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعدد صحابہ سے بھی ایسا ہی بیان کیا جاتا ہے۔اور قاسم بن محمد نے کہا: بہت سے لوگ جو اَئمہ تھے وہ امام کے پیچھے قراءت کیا کرتے تھے۔اور ابومریم نے کہا: میں نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو امام کے پیچھے قراءت کرتے ہوئے سنا۔اور ابووائل نے حضرت ابن مسعودؓ سے روایت کرتے ہوئے کہا: امام کی خاطر خاموشی اختیار کرو۔اور ابن مبارک نے کہا: یہ بات جہری نمازوں پر اطلاق پاتی ہے۔اور جن میں امام خاموش ہو، صرف انہی میں امام کے پیچھے قراءت کی جائے۔اور حسن (بصری)، سعید بن جبیر، میمون بن مہران اور بے شمار تابعین اور اہل علم نے کہا: (مقتدی) امام کے پیچھے قراءت کرے خواہ وہ جہراً پڑھا رہا ہو۔اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا امام کے پیچھے قراءت کا حکم دیا کرتی تھی۔اور خلال نے کہا کہ حنظلہ بن ابی مغیرہ نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے کہا: میں نے حماد سے پہلی نماز اور عصر کی نماز میں قراءت خلف الامام کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: سعید بن جبیر پڑھا کرتے تھے۔پھر میں نے پوچھا: آپ کو کیا طریق پسند ہے؟ انہوں نے کہا: تیرا پڑھنا۔(القراءة خلف الإمام للبخاري، بَابُ وُجُوبِ الْقِرَاءَةِ لِلْإِمَامِ وَالْمَأْمُومِ)